نئی دلی/ بجلی کی وزارت اور نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت مشترکہ طور پر ایک قومی مشن شروع کر رہی ہے بجلی کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی تیزی سے شناخت کی جا سکے اور انہیں اندرون اور بیرون ملک تعینات کرنے کے لیے مقامی سطح پر، بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکے۔ قومی مشن، جس کا عنوان ہے "مشن آن ایڈوانسڈ اینڈ ہائی-امپیکٹ ریسرچ(ایم اے ایچ آئی آر ( ‘‘کا مقصد مقامی تحقیق، ترقی اور توانائی کے شعبے میں جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو پیش کرنے سہولت فراہم کرنا ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیوں کی شناخت کرکے اور انہیں نفاذ کے مرحلے تک لے کر، مشن مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ایندھن کے طور پر ان کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور اس طرح ہندوستان کو دنیا کا ایک مینوفیکچرنگ مرکز بنانا چاہتا ہے۔اس مشن کو دونوں وزارتوں کےتحت بجلی کی وزارت نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت اور مرکزی سرکاری سیکٹر کے صنعتوں کے مالی وسائل کے ذریعے فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کے بجٹ وسائل سے کسی بھی اضافی فنڈ کی ضرورت کو پورا کیا جائے گا ۔2023-24 سے 2027-28کی پانچ سال کی ابتدائی مدت کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ یہ مشن پیداوار کے لیے ہندوستان کے لیے ٹیکنالوجی لائف سائکل طریقہ کار اپنائے گا۔ایم اے ایچ آئی آر کے شروع کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے بجلی اور این آر ای کے مرکزی وزیر جناب آر کے سنگھ نے کہا کہ یہ مشن نیٹ زیرو اخراج اور میک ان انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا جیسی فروغ دیے جانے والی پہل قدمیوں کے حصول کے طور پر قومی ترجیحات کے لیے ایک محرک کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے پائدار ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ گزشتہ نو سال میں ہندوستان کے بجلی کے شعبہ نے کافی ترقی کی ہے اور یہ سیکٹر مالی اعتبار سے کافی مزبوط ہوا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہندوستان آنے والے سالو میں سات فیصد سے زیادہ بجلی پیدا کرنے جا رہا ہے۔ بجلی کی مانگ میں 10 فیصد کا اضافہ ہوگا۔اس کے علاوہ ہندوستان وزیر اعظم کے لائف وژن کو اپنانے کے لیے توانائی میں تبدیلی لانا چاہتا ہے۔ اس پر نہ صرف بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی بلکہ تحقیق اور ترقی کے ذریعہ تبدیلی اور طریقہ کار اپنانے ہونگے۔بجلی کے سیکٹر کے سکریٹری جناب آلوک کمار نے کہا کہ ایم اے ایچ آئی آر بجلی کے سیکٹر میں تحقیق اور اختراع کے لیے ایک ایکو سسٹم تیار کرنے کی غرز سے تعلیمی اشتراق کے لیے کام کرے گا۔ ایم اے ایچ آئی آر آئی آئی ٹیز ، آئی آئی ایمس، این آئی ز، آئی آئی ایس ای آر جیسے اہم اداروں کے ساتھ کام کرے گا اور بجلی کے سکریٹری نے مزید کہا کہ ایک اخترائی ایکو نظام تیار کرنے کے لیے ایک طرف یونیورسٹیاں اور سرکاری اور پرائویٹ بجلی سیکٹر اور اسٹارٹ اپس اور صنعتیں حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔














