جنگلی علاقے کی وسیع پیمانے پر ناکہ بندی، مزید ملی ٹینٹوں کی موجودگی کا شبہ
سرینگر/راجوری ضلع کے دسل گجرن علاقے میں فوج نے ایک جنگجو کو مختصر تصادم آرائی کے دوران مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ یو پی آئی کے مطابق راجوری کے جنگلی علاقے دسن گجرن میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ایک عدم شناخت ملی ٹینٹ مارا گیا ہے۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ راجوری کے دسن گجرن جنگلاتی علاقے میں مشکوک افراد کی نقل وحرکت کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز نے جب مشتبہ افرادکو چیلنج کیا تو انہو ں نے فائرنگ شروع کی جس کے جواب میں فوج نے بھی کارروائی کی جس دوران کافی دیر تک دوبدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہاکہ گولیوں کا تبادلہ تھم جانے کے بعد تصادم کی جگہ ایک عدم شناخت ملی ٹینٹ کی لاش برآمد کی گئی جس کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کے بارے میں جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے۔ دریں اثنا ذرائع نے بتایا کہ سرحد پر مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر گزر رکھی جارہی ہے اور ملک دشمن عناصر کی طرف سے کسی بھی ناموافق کوشش کو ناکام بنانے کے لئے فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے ساتھ مشترکہ گشت بھی جاری ہے۔دفاعی ذرائع نے بتایاکہ لائن آف کنٹرول میں اگلی چوکی پر تعینات فوجی اہلکار دن رات نظر گزر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سرحد پار سے کوئی بھی ایل او سی کو پار نہ کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں نے دراندازی کرکے کشمیر میں داخل ہونے کے ارادارے ترک نہیں کئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ وادی میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے کشمیر کے350 کلومیٹر سرحد پر چوکسی بڑھائی گئی ہیں۔دفاعی ذرائع نے مزید بتایاکہ سرحدوں پر تعینات افواج کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو خاک میں ملایا جاسکے۔ان کے مطابق سرحدوں پر تعینات افواج دن رات اپے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔














