نئی دلی/وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے پرگتی میدان میں بین الاقوامی میوزیم ایکسپو 2023 کا افتتاح کیا۔ انہوں نے نارتھ اور ساؤتھ بلاکس میںقائم ہونے والے نیشنل میوزیم کے ورچوئل واک تھرو کا بھی افتتاح کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ٹیکنو میلہ، کنزرویشن لیب اور نمائشوں کادیدار بھی کیا۔انٹرنیشنل میوزیم ایکسپو کا انعقاد آزادی کے امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر کیا جا رہا ہے تاکہ 47 ویں بین الاقوامی میوزیم ڈے کو سال کے، ’میوزیمس، پائیداری اور بہبود‘تھیم کے ساتھ منایا جاسکے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے میوزیم کے عالمی دن کے موقع پر سب کو مبارکباد دی۔اس موقع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جہاں ہندوستان اپنی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر امرت مہوتسو منا رہا ہے، وہیں بین الاقوامی میوزیم ایکسپو کے موقع پر ٹیکنالوجی کی شمولیت سے تاریخ کے مختلف ابواب زندہ ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کسی میوزیم میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارا رابطہ ماضی سے ہوتا ہے اور میوزیم حقائق اور شواہد پر مبنیسچائی کو پیش کرتا ہے اور یہ ماضی سے تحریک اور مستقبل کے تئیں فرض کا احساس بھی دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا تھیم ’پائیداری اور فلاح و بہبود‘ آج کی دنیا کی ترجیحات کو اجاگر کرتا ہے اور اس تقریب کو مزیدبامعنی بناتا ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ آج کی کاوشیں نوجوان نسل کو اپنے ورثے سے بہتر طور پر روشناس کرائیں گی۔وزیر اعظم نے آج کی تقریبگاہ پہنچنے سے پہلے میوزیم کے اپنے دورے کا بھی ذکر کیا اور منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی کوششوں کی تعریف کی جس نے یہاں آنے والے لوگوں کے ذہن پرکافی اچھا اثر ڈالنے میں مدد کی۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آج کا موقع ہندوستان میںمیوزیمس کی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا موڑ ثابت ہوگا۔اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ غلامی کے دوران اس سرزمین کی بہت سی میراثضائع ہوگئی تھیں جوکہ سینکڑوں سال تک رہی جب قدیم نسخوں اور کتب خانوں کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا، وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ صرف ہندوستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی وراثت کا نقصان ہے۔ انہوں نے آزادی کے بعد اس سرزمین کے طویل عرصہ سے کھوئے ہوئے ورثے کے احیاء اور تحفظ کے لیے کوششوں کے فقدان پر افسوس کا اظہار کیا جہاں شہریوں میں بیداری کی کمی نے اس سے بھی زیادہ اثرڈالا۔’پنچ پرن‘یا آزادی کا امرت کال کے دوران ملک کے ذریعہ کئے گئے پانچعزم کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ’اپنی وراثت پر فخر کرنے‘ پر زور دیا اورواضح کیا کہ ملک کا ایک نیا ثقافتی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ان کوششوں میں کوئی بھی ہندوستان کی آزادی کی لڑائی کی تاریخ کے ساتھ ساتھ ملک کے ہزار سال پرانے ورثے کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہحکومت ہر ریاست اور معاشرے کے ہر طبقے کے ورثے کے ساتھ مقامی اور دیہی میوزیمس کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی مہم چلا رہی ہے۔وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کی جدوجہدآزادی میں قبائلی برادریوں کے تعاون کودوام بخشنے کے لیے دس خصوصی میوزیمس کو فروغ دیا جارہا ہے، جو قبائلی تنوع کی جھلک فراہم کرنے کے لیے دنیا کے سب سے منفرد اقدامات میں سے ایک ہوگا۔ اس سر زمین کی وراثت کے تحفظ کی مثالیں دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ڈانڈی پاتھ کا ذکر کیا جہاں مہاتما گاندھی نے نمک ستیہ گرہ کے دوران مارچ کیا تھا اور اس جگہ پر بنائی گئییادگار کا ذکر کیا جہاں انہوں نے نمک کے قانون کو توڑا تھا۔ انہوں نے دہلی کے 5 ،علی پور روڈ پر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مہاپری نروان استھل کو ایک قومییادگارکے طورپر دوبارہ تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی سے متعلق پنچ تیرتھ کی ترقی کا بھی ذکر کیا،مہو،جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، لندن میں جہاں وہ رہتے تھے، ناگپور،جہاں انہوں نےبودھ دھرم اختیار کیا اور ممبئی میں چیتیہ بھومی جہاں آج ان کی سمادھی موجود ہے۔ انہوں نے سردار پٹیل کے اسٹیچو آف یونٹی، پنجاب میں جلیانوالہ باغ،گجرات میں گووند گرو جی کییادگار، وارانسی میں مانمحل میوزیم اور گوا میں کرسچن آرٹ میوزیم کی مثالیں بھی دیں۔انہوں نے دہلی میں ملک کے تمام سابق وزرائے اعظم کے سفر اور ان کی خدمات کے لیے وقف پردھان منتری سنگرھالیہ کا بھی ذکر کیا اور مہمانوں سے ایک بار اس میوزیم کودیکھنے کی درخواست کی۔













