سری نگر/ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران جموں وکشمیر میں زائد از 15 ملین درخت لگائے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ فطرت اور انسان کے درمیان نتیجہ خیز ہم آہنگی پیدا کرنے کے خیالات کو سامنے لائیں اور ایک بہتر دنیا کے قیام کے لئے ان خیالات کو عملی جامہ پہنائیں۔موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں موسمیاتی تبدلی پر منعقدہ یوتھ – وائی 20 مشاورتی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر دنیا میں صرف برف پوش پہاڑوں کے لئے ہی مشہور نہیں ہے بلکہ دانشو رانہ صلاحتیوں کے لئے جانا جاتا ہے۔اجلاس میں ملکی و غیر ملکی وفود کا استقبال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کو یہ صاف کر دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف کانفرنس میزوں پر نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے خلاف ڈنر ٹیبلز پر بنرد آزما ہونا ہے۔مسٹر سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کوششوں کو ایک عوامی جدو جہد میں تبدیل کریں اور ایک ما حولیاتی طور ہوشیار طرز زندگی کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا: ‘ مجھے یقین محکم ہے کہ مودی جی کی قیادت میں ہندوستان دنیا کو ایک ایسی پائیدار سوسائٹی کی تعمیر طرف رہنمائی کرے گا جو معاشی لحاظ سے بھی قوی و مضبوط ہوگی اور جو نازک ماحولیاتی توازن کو بر قرار رکھنے میں بھی اپنا رول ادا کرے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ "گرین گروتھ’ جو سات ترجیحات میں سے ایک اہم ترجیح ہے، کو اختیار کرکے وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کو دکھایا کہ ہندوستان سال 2070 تک صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہے’۔لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ وہ فطرت اور انسان کے درمیان نتیجہ خیز ہم آہنگی پیدا کرنے کے خیالات کو سامنے لائیں اور ایک بہتر دنیا کے قیام کے لئے ان خیالات کو عملی جامہ پہنائیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ماحولیاتی اور اکیسویں صدی کے عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قابل عمل حل تجویز کرنے میں دنیا کی رہبری کریں گے۔ان کا کہنا تھا: مجھے یقین ہے کہ نوجوان قدرتی وسائل کے تحفظ کے لئے نئے تجاویز پیش کریں گے اور ایک پائیدار ترقی کے لئے پالیسی مرتب کرنے کے حصہ دار بن جائیں گے۔منوج سنہا نے بھارت کے قدیم صحیفوں میں درج اصولوں اور اقدار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ابا و اجداد کے خیالات صرف کتابوں تک محدود نہیں تھے بلکہ وہ ان کو عملی جامہ بھی پہناتے تھے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار بنیادوں پر زندگی گذارنا بھارت کا طرز زندگی رہا ہے۔انہوں نے یہ بات دہرائی کہ یونین ٹریٹری سرکار ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں صف اول کے لڑنے والوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے اپنے وعدے پر پابند ہے۔موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر وائی ٹونٹی نمائش کا بھی افتتاح کیا اور یونیورسٹی کے وائی ٹونٹی کرونیکل کو اجرا بھی کیا۔














