دونوں مراکز کے کام کاج کا جائزہ اور عملے کے ساتھ اِستفساری گفتگو کی
ضلع ترقیاتی کمشنر ارہمولہ ڈاکٹر سیّد سحرش اَصغر نے خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کو روکنے اور ایک اہم اقدام کے تحت آج وَن سٹاپ سینٹر ( او ایس سی ) اور خواتین کو بااِختیار بنانے کے ضلعی مرکز ( ڈی ایچ اِی ڈبلیو ) کی تعریف کی ۔بارہمولہ نے تقریباً 90فیصد معاملات کونسلنگ اور قانونی مشورے سے حل کر کے بہتر پیش رفت حاصل کی۔ڈاکٹر سیّد سحرش اَصغر نے خواجہ باغ بارہمولہ کے اَپنے دورے کے دوران دونوں مراکز کی سراہنا کی اور اُنہوںنے وہاںمعائینہ کیا اور عملے کے ساتھ ایک تفصیلی اِستفساری گفتگو کی۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے اَپنے دورے کے دوران کہا کہ وَن سٹاپ سینٹر گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کو ایک خفیہ مشاورت فراہم کرتا ہے اور بارہمولہ میں323 رجسٹرڈ معاملات درج کئے گئے ہیں جن میں سے 90 فیصد معاملات کونسلنگ ، مفت قانونی اِمداد اور مفت طبی اِمداد سے حل کئے گئے ہیں۔
اُنہوں نے ضلعی ہَب برائے خواتین کو بااِختیار بنانے بارہمولہ کو تحفظ گھر قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ مرکز گھریلو تشدد اور دیگر خاندانی تنازعات کے معاملات کو حل کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس اقدام کا مقصد کنبوں میں تنازعات کو روکنا اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنابھی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے مزید کہا کہ ضلعی اِنتظامیہ خواتین کو ہنر سے بااِختیار بنانے کے لئے پُر عزم ہے تاکہ وہ سماجی زندگی میں خود اَنحصار بن سکیں۔مزید برآں ، ضلع ترقیاتی کمشنر نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر بیداری مہم شروع کریں تاکہ خواتین اَپنے حقوق کو سمجھ سکیں ۔اُنہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہائیر سکینڈری سطح پر اِس کے مزید پروگرام منعقدکئے جائیں تاکہ طلباءاَپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہی بہتر کیرئیر کا اِنتخاب کرسکیں۔بعد اَزاں ، ضلع ترقیاتی کمشنر نے عملے سے بھی بات چیت کی اور ان کے مسائل کا جائزہ لیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے یقین دِلایا کہ ضلع اِنتظامیہ بارہمولہ کی خواتین کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لئے دونوں مراکز کے عملے کی طرف سے اُٹھائے گئے تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔













