منشیات کے استعمال کو روکنے کےلئے مذہبی پیشواﺅں اور عوامی نمائندوں کا رول اہم
ڈویژنل کمشنر کشمیر نے کہا ہے کہ وادی کشمیر سے منشیات کی بدعت کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مذہبی رہنماﺅں اور عوامی نمائندوں کا اہم رول بنتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سرکار بھی منشیات کا قلع قمع کرنے کےلئے سرگرمی کے ساتھ اقدامات اُٹھانے جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں منعقدہ میٹنگ میں صوبائی کمشنر نے کہا کہ آئیے ہم اجتماعی طور پر منشیات کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششوں اور وسائل کو بروئے کار لائیں تاکہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت میں پھسلنے سے بچایا جا سکے۔اس میٹنگ میں ورچوئل موڈ کے ذریعے کشمیر صوبہ کے ڈپٹی کمشنروں کے علاوہ ڈائریکٹر، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ،ڈائریکٹر، سکول ایجوکیشن اے ڈی سی سرینگر، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، جوائنٹ ڈائریکٹرایکسائز کمشنر، پرنسپل ایس پی کالج، ایچ او ڈی، شعبہ نفسیات جی ایم سی سرینگر،ڈرگ کنٹرولر کشمیر، تحصیلدار، جموں و کشمیر وقف بورڈ اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ شروع میںانچارج ڈویژنل کنٹرول روم، طاہر ماگرے نے دماغی صحت کی خرابیوں اور منشیات کے استعمال کشمیر میں منشیات استعمال کرنے والوں کی حالت، نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے پوست کی فصل،کے پودوں کو تلف کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات، مشاورت اور بحالی کے عمل منشیات کی لت سے نجات کے مراکز کا کام، غیر منظم اور منظم منشیات کی سمگلنگ کی سرگرمیوں پر نگرانی وغیرہ کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی کمشنر نے تمام ضلع کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری غیر فعال عمارتوں کو قریبی محکموں کو سپرد کریں تاکہ ان خالی عمارتوں کا استعمال منشیات کے عادی اپنے لئے نہ کرسکیں۔ انہوںنے ان جگہوں کی باقاعدہ نگرانی کی بھی ہدایت دی ۔ انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں منشیات کے منفی اثرات کے بارے میں نچلی سطح پر بیداری پھیلائیں۔انہوں ہدایت کی کہ وہ ان علاقوں کی حد بندی کریں اور ان علاقوں میں منشیات کے استعمال اور کاروبار کے گراف کے تحت سرخ ، سبز اور پیلے نشاندہ کریں تاکہ اس سے منشیات کی شدت اور مخالف کارروائی کی نوعیت کا پتہ چل سکے ۔ اس موقعے پر انہوں نے مذہبی رہنماو¿ں اور عوامی نمائندوں کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے ڈی سیز سے کہا کہ وہ مذہبی رہنماو¿ں، اماموں اور عوامی نمائندوں کو اس معاملے کی حساسیت سے باخبر کریں تاکہ لوگوں میں منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے بیداری پیدا کی جا سکے۔ڈویژنل کمشنر نے افسران کو نوجوانوں میں منشیات کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے ایک فعال انداز اپنانے کی تلقین کی۔منشیات کی اسمگلنگ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے، بیدھوری نے مختلف این ڈی پی ایس قوانین کے تحت منشیات کے اسمگلروں کو حراست میں لینے کی یقین دہانی کرائی جبکہ دوسروں کے لیے ان کی بازآبادکاری کے لیے مشاورتی مراکز کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اس ضمن میں ہیلپ لائن نمبرات کو مشتہر اور عام کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ ضرورت کے وقت لوگ مدد حاصل کرسکیں۔














