سرینگر21 اپریل// دفاعی ذرائع بتایا ہے کہ جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میںجنگجوﺅں کے حملے میں دو گروپوں سے تعلق رکھنے والے سات ملیٹنٹ ملوث تھے جس میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستانی قوم پرست گروہوں سے ہے۔انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو فوج کی گاڑی پر حملہ کرنے والے ملیٹنٹوںنے جیش محمد اور لشکر طیبہ کی مدد سے زمینی کارکنوں سے حملہ کروایا جو جموں و کشمیر کے راجوری میں سرگرم ہیں۔ اس سے پہلے اطلاع ملی تھی کہ جیش کے حمایت یافتہ پیپلز اینٹی فاشسٹ فرنٹ (پی اے ایف ایف) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ اس حملے میں لشکر طیبہ کے جنگجوںملوث تھے۔انٹیلی جنس ایجنسیاں ان رپورٹس کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ ملیٹنٹ راجوری اور پونچھ کے راستے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر سے ہندوستان میں گھس آئے تھے۔ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ جی ای ایم اور ایل ای ٹی کے ملیٹنٹوں کو پی او کے میں کئی مقامات پر جمع ہونے کو کہا گیا تھا اور انہیں وہاں کے دیہاتوں میں چھپایا گیا تھا۔سیکورٹی فورسز نے بٹہ ڈوریا کے علاقے میں ڈرون اور سونگھنے والے کتوں کا استعمال کرتے ہوئے جنگوجوﺅںکا پتہ لگانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ اور اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) بھی حملے کی تحقیقات کے لیے جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔جموں ڈویڑن کے اے ڈی جی پی مکیش سنگھ اور دیگر سینئر افسران بھی اس جگہ پر ہیں جہاںحملہ ہوا تھا۔














