نئی دہلی،20 اپریل(اے یوایس)دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو یوٹیوب کو ہدایت دی کہ وہ امیتابھ بچن کی پوتی آرادھیا بچن کے بارے میں کسی بھی جعلی خبر کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسی جعلی خبروں کو مستقبل میں بھی شیئر نہیں کیا جانا چاہیے۔ایشوریا رائے بچن اور ابھیشیک بچن کی 11 سالہ بیٹی نے بدھ کے روز اپنی صحت کے بارے میں جعلی خبریں رپورٹ کرنے پر یوٹیوب ٹیبلوئڈ کے خلاف ہائی کورٹ کا رخ کیاتھا۔ہائی کورٹ نے جعلی خبریں پھیلانے کے لیے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم کی سرزنش کی اور پوچھا کہ کیا اس کے پاس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے کہ اس طرح کے گمراہ کن مواد کو پوسٹ نہ کیا جائے۔ دہلی ہائی کورٹ نے یوٹیوب سے کہا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ صارفین کو ایک پلیٹ فارم دیا گیا ہے اور جو کچھ وہاں پر ڈالا جا رہا ہے اس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہے۔
عدالت نے درخواست میں فریق بنائے گئے گوگل اور یوٹیوب کے تمام پلیٹ فارمز کوسمن جاری کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے آئی ٹی رولز میں ترمیم کے مطابق اپنی پالیسی تبدیل کی؟ عدالت نے یوٹیوب ویڈیو پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق ہے اور ایسی جعلی خبروں کو روکنا پلیٹ فارم کی ذمہ داری ہے۔














