سرینگر/جموں کشمیر میں شراب کی دکانوں کی بولی آنے والے دنوں میں انجام دی جائے گی جبکہ یوٹی کو شراب دکانوں اور لائسنس کی منظوری سے 261کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ جموں کشمیر کے 34مقامات پر شراب کی دکانوں کےلئے بولی ہوگی جس میں 943بولی دہندگان حصہ لے رہے ہیں۔ ایکسائز محکمہ نے ا س بات کاانکشاف کیاکہ شرا ب کی فروخت کے لئے دکانوں کی نیلامی سے سرکاری خزانے کودوسو ساٹھ کروڑروپے کی آمدانی حاصل ہوئی ہے۔ محکمہ کے مطابق بولی میں943دہندگان شرکت کررہے ہیں جو جموں کشمیر کے 34مقامات پر قائم شراب کی دکانوں کی بولی میں حصہ لیں گے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں اس بولی کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر میں غیر قانونی طریقے سے شراب کی خریدوفروخت پر پابندی عائد ہے البتہ سرکارکی جانب سے جہاں جہاں دکانیں یا سیل سنٹرل قائم کئے جاتے ہیں ان ہی جگہوں پر شراب کی خریدوفروخت کی اجازت ہوتی ہے ۔ جبکہ عوامی اور مذہبی مقامات کے علاوہ ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں جیسے سکول، کالج اور یونورسٹیز کے نزدیک شراب کی خریدوفروخت کی اجازت نہیں ہے ۔ دریں اثناءعوامی حلقوں کا اس ضمن میں مطالبہ ہے کہ سرکار جموں کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی عائد کریں کیوں کہ جموں کشمیر میں جس طرح سے منشیات میں نوجوان مبتلاءہے وہ سماجی طور پر کافی نقصان دہ ثابت ہورہا ہے اور منشیات کی وجہ سے سماجی جرائم میں اضافہ ہورہا ہے ۔














