ممبئی، 29 مارچ (اے یوایس) ممبئی ہائی کورٹ نے قومی ترانے کی توہین کیس میں ممتا بنرجی کو راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس امت بورکر کی سنگل بنچ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا اور ممتا بنرجی کی عرضی کو خارج کر دیا۔ بتادیں کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سال 2021 میں ایک پروگرام کے دوران قومی ترانے کی مبینہ توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ممتا بنرجی کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی۔بی جے پی کے کارکن وویکانند گپتا کی مارچ 2022 میں کی گئی شکایت کی بنیاد پر میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے ممتا بنرجی کو سمن جاری کیا تھا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے اپنے خلاف جاری سمن کو خصوصی ایم پی/ایم ایل اے کورٹ میں چیلنج کیا۔ جس پر ایم پی/ایم ایل اے عدالت کے جج نے طریقہ کار کی بنیاد پر سمن کو ایک طرف رکھ دیا اور مجسٹریٹ سے گپتا کی شکایت پر نئے سرے سے غور کرنے کو کہا۔ ہائی کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں ممتا بنرجی نے کہا کہ سیشن کورٹ کے سمن کو ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دینا چاہیے تھا، اور معاملہ مجسٹریٹ کو واپس نہیں بھیجنا چاہیے۔ ممتا بنرجی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس بورکر نے کہا کہ سیشن کورٹ کے حکم میں ہائی کورٹ کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دسمبر 2021 میں ممبئی کے یشونت راو¿ چوان آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جب قومی ترانہ بجایا گیا تھا تب بھی ممتا بنرجی بیٹھی رہیں۔ اس کے بعد اچانک اٹھیں اور دو سطریں گانے کے بعد اچانک خاموش ہو گئیں اور وہاں سے چلی گئیں۔













