گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ممنوعہ تنظیم کے دو معاونین کو گرفتار کرلیا گیا
سرینگر/15مارچ//بارہمولہ کے سنگھ پورہ پٹن میں فوج اور پولیس نے ایک مشترکہ ناکہ کے دوران لشکرطیبہ سے مبینہ طور پر وابستہ ایک معاون کو گرفتار کرلیا ہے جس کے قبضے سے کئی گولیوں کے راونڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ضلع میں یہ دوسرا لشکر معاون گرفتار ہوا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق پولیس نے بدھ کے روز شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں لشکر طیبہ کے ایک جنگجو ساتھی کو گولہ بارود سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس ترجمان نے کہا کہ بارہمولہ پولیس، آرمی 29 آر آر اور 2 بی این ایس ایس بی کے مشترکہ دستوں نے سنگھ پورہ پٹن میں ناکے کی چیکنگ کے دوران ایک شخص کو مٹی پورہ کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا جس نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تاہم وہاں پر موجود ناکہ پارٹی کے چند اہلکاروں نے اس کا پیچھا کیا اور تدبیر سے اسے پکڑ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کی ذاتی تلاشی کے دوران، AK-47 کے 71 زندہ راو¿نڈ برآمد ہوئے، اور اسے فوری طور پر تحویل میں لے لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پوچھ گچھ کے دوران، اس نے اپنا نام علی محمد بھٹ ولد غلام رسول بھٹ ساکن بونیچکل آرام پورہ پٹن کے طور پر ظاہر کیا اور وہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے ساتھ عسکریت پسند کے ساتھی کے طور پر کام کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلحہ اور یو ایل اے (پی) ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ تھانہ پٹن میں درج ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سوپور میں پولیس نے منگل کے روز ایک شخص کو گرفتار کرلیا تھا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ سے مبینہ طور پر وابستہ ہے ۔ اس طرح سے ضلع میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لشکر کے دو معاونین گرفتار کرلئے گئے ہیں۔














