نئی دلی۔ یکم فروری/۔2014 کے بعد سے ملک کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے مرکزی بجٹ 2023-24 پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’’کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے‘‘کے منتر کے نتیجے میں ملک کی جامع ترقی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے تمام شہریوں کے لیے بہتر معیار زندگی اور باوقار زندگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ سال 2014 کے بعد سے حکومت کی متعدد کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے نشاندہی کی کہ فی کس آمدنی دوگنی سے زیادہ بڑھ کر 1.97 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ، گذشتہ 9 برسوں میں، بھارتی معیشت کا حجم دنیا میں 10 ویں پائیدان سے بڑھ کر 5 ویں پائیدان پر آگیا ہے. انھوں نے کہا، ’’ہم نے کاروبار کے لیے سازگار ماحول کے ساتھ ایک عمدہ طور سے منظم اور جدت طراز ملک کے طور پر اپنی پوزیشن کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے جیسا کہ متعدد عالمی اشاریوں سے ظاہر ہوتا ہے اور بہت سے پائیدار ترقیاتی اہداف میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔‘‘اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ معیشت بہت زیادہ فارمل ہو گئی ہے، مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’’ای پی ایف او کی رکنیت کا دوگنی سے زیادہ ہوکر 27 کروڑ ہوجانا اس بات کا عکاس ہے۔ اس کے علاوہ 2022میں یو پی آئی کے ذریعے 400 لاکھ کروڑ روپے کی 126 کروڑ روپے کی ڈیجیٹل ادائیگی کی گئی۔ مرکزی وزیر خزانہ نے اس کا سہرا 2014 سے ملک بھر میں ہونے والی جامع ترقی کے لیے ہدفی فوائد کو عام کرنے والی بہت سی اسکیموں کے موثر نفاذ کودیا۔














