نئی دلی۔ 20؍ جنوری/مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج( سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پہلی بار ہندی اور انگریزی کے علاوہ 13 علاقائی زبانوں میں ملٹی ٹاسکنگ (نان ٹیکنیکل) اسٹاف امتحان 2022 منعقد کرنے کے فیصلے کے لیے اسٹاف سلیکشن کمیشن کی کوششوں کی تعریف کی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کے تمام ملازمت کے خواہشمندوں کو برابری کا میدان فراہم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے وژن کے مطابق ہے کہ زبان کی رکاوٹ کی وجہ سے کسی کو موقع سے محروم نہ کیا جائے یا اس سے محروم نہ ہوں۔تیرہ علاقائی زبانیں اردو، تامل، ملیالم، تیلگو، کنڑ، آسامی، بنگالی، گجراتی، کونکنی، منی پوری ، مراٹھی، اوڈیا اور پنجابی ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس اقدام سے مختلف ریاستوں اور خاص طور پر جنوبی ہند کے امیدواروں کی انگریزی اور ہندی زبانوں میں پہلے سے منعقد ہونے والے امتحانات کے لیے طویل عرصے سے زیر التواء مطالبہ کو پورا کیا جائے گا۔ وزیر نے مزید کہا کہ اس سے ملک بھر سے امیدواروں کی ایک بہت بڑی تعداد کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ اس تاریخی اقدام کے بعد بتدریج آٹھویں شیڈول میں درج تمام زبانوں کو آئین میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نشاندہی کی کہ مودی جی نے نومبر 2022 میں وارانسی میں "کاشی تامل سنگم” کے افتتاح کے دوران اس بات کی نشاندہی کی کہ "دنیا کی قدیم ترین زندہ زبانوں میں سے ایک ہونے کے باوجود، یعنی تمل، ہمارے پاس اس کا مکمل احترام کرنے میں کمی ہے۔ "یہ 130 کروڑ ہندوستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تامل کی وراثت کو محفوظ رکھیں اور اسے مزید تقویت دیں۔ ہمیں لسانی اختلافات کو دور کرنا اور جذباتی اتحاد قائم کرنا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسٹاف سلیکشن کمیشن کی یہ مسلسل کوشش ہے کہ وہ آبادی کے مختلف طبقات کو برابری کا میدان فراہم کرے تاکہ علاقائی تفاوت کو ختم کیا جاسکے اور آئین کے نظریات کو حاصل کیا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ لسانی تنوع کا جشن بھی منایا جاسکے۔














