ہندوارہ میں گزشتہ رات بارودی شے پھٹنے سے ایک طالبہ لقمہ اجل بن گئی ہے جبکہ اس کی مان اور والد اس دھماکہ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے ہیں ۔پُر اسرار دھماکہ کے نتیجے میں علاقے میں سراسمگی پھیل گئی جبکہ رات کی تاریخی میں چیخ و پُکار سے علاقہ دہل اُٹھا ۔ اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے سرحدی قصبہ ہندوارہ میں گزشتہ رات ایک پُر اسرار دھماکہ ہوا جس میں ایک لڑکی لقمہ اجل بن گئی ۔ جبکہ کنبہ کے مزید چھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں لڑکے کے ماں باپ بھی شامل ہیں۔ دھماکہ کی آواز سنتے ہی آس پاس کے لوگ جائے ورادات پر پہنچے اور خون میں لت پت افراد کو ہسپتال پہنچایا جہاں پر ڈاکٹروں نے 19سالہ طالبہ کو لقمہ اجل قراردیا ۔ ہندوارہ کے تارت پورہ میں یہ واقعہ رات کے 9بجے اس وقت پیش آیا جب اہل خانہ کھانا کھا رہے تھے۔پہلے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ گیس سلنڈر پھت گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پر اسرار دھماکہ تھا جو غالباً بارودی شل پھٹنے سے ہوا ہے تاہم پولیس نے کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کررہے ہیں کیونکہ گیس سلنڈر دھماکہ نہیں تھا اور برتنوں میں آہنی ریزوں سے بڑے اور چھوٹے چھید ہوگئے ہیں۔ غلام محمد وانی، انکی اہلیہ راجہ بیگم، انکی بیٹی 19سالہ شبنم اختر،6سالہ بچی زاہدہ بانو ،رفعت بانو،مختی بیگم زوجہ عبدالرزاق وانی اوراشتیاق احمد شامل ہیں۔مقامی لوگو ں نے فوری طور زخمیو ں کو ہندوارہ اسپتال میں دا خل کیا ، جہاں شبنم زخمو ں کی تاب نالاکر دم تو ڑ بیٹھی۔واضح رہے کہ چند ماہ قبل تارت پورہ کے متصل ایک اور گاﺅں میں اسی طرح کے ایک واقعہ میں جنگل سے ایک بارودی شل کو آگ میں ڈالا گیا جس میں دھماکہ ہوا اور ماں بیٹی لقمہ اجل بن گئی تھیں۔ ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا پتہ لگایا جارہا ہے کہ متاثرہ کنبے کے گھر میں یہ بارودی مواد یا جو کچھ بھی ہو کیسے پہنچا ۔ انہو ں نے بتایا کہ ایسالگ رہا ہے کہ یہ بارودی شل جنگل سے ردی اشیاءسمجھ کر لایا گیا تھا ۔














