اسلام آباد: ۳۲ اکتوبر (ایجنسیز) توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کے خلاف خیبرپختونخوا اسمبلی نے قرارداد کثرت رائے سے منظور کرتے ہوئے اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر آئینی قرار دے دیا گیا۔ ایوان کی ہنگامہ خیز کارروائی کی صدارت کرنےوالے ڈپٹی اسپیکر محمود جان نے تلاوت قرآن پاک کے فوراً بعد وزیر تعلیم کامران خان بنگش کو قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جس پر ڈپٹی اسپیکر کے دستخط بھی موجود تھے۔ اپوزیشن بنچز نے ڈپٹی اسپیکر کے رویے پر احتجاج کیا جس سے ایوان میں ہنگامہ آرائی پیدا ہوئی، اپوزیشن کے ارکان اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر کے ڈائس کا گھیراو¿ کرلیا اور نعرے بازی کی۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس پیر (کل) کو ہونا تھا لیکن توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد قائم مقام صوبائی گورنر مشتاق احمد غنی نے اجلاس گزشتہ روز (ہفتہ) بلالیا۔ وزیر تعلیم کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ’یہ ایوان الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو یکطرفہ، غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتا ہے جس کے ذریعے زندگی بھر کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنے والے ایک مقبول سیاستدان کو نااہل قرار دیا گیا ہے، جعلی مقدمات میں ان کی نااہلی انصاف کے قتل کے مترادف ہے‘۔ اس میں مزید کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو نہ صرف مسترد کرتی ہے بلکہ اسے جمہوریت پر حملہ بھی سمجھتی ہے۔













