پتھراو¿ اور بینکوں پر حملے کے الزام میں 57 د مظاہرین گرفتار
تہران: ۲۲ اکتوبر (ایجنسیز) ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں احتجاج کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ تین ہفتے قبل اس شہر میں کریک ڈاو¿ن کے دوران تقریباً 100 مظاہرین مارے گئے تھے۔ کو سینکڑوں ایرانی شہریوں نے سیستان بلوچستان کے شہر زاہدان میں احتجاج کیا اور ’مرگ بر آمر خامنہ ای‘ اور ’اتحاد اتحاد‘ کے نعرے لگائے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تازہ مظاہروں میں متاثرین کی جانب سے پتھراو¿ کرنے اور بینکوں پر حملے کے بعد اس نے 57 ’پ±رتشدد مظاہرین‘ کو گرفتار کیا ہے۔دو ہفتے قبل سکیورٹی فورسز نے زاہدان میں 93 احتجاجی مظاہرین کو ہلاک کیا تھا۔ یہ مظاہرین ایک پولیس کمانڈر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس نے ایک کم عمر لڑکی کا ریپ کیا تھا۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ھرانا کا کہنا ہے کہ ایک مہینے کے دوران 32 بچوں سمیت 244 احتجاجی مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔114 شہروں، قصبوں اور 81 یونیورسٹیوں کے 12 ہزار 500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اتوار کو ایرانی اساتذہ نے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاو¿ن کے دوران سکول کے طلبہ کو نشانہ بنانے پر دو دن ہڑتال کی کال دی ہے۔ کوآرڈینیٹنگ کونسل آف ٹیچرز سنڈیکیٹس نے کہا کہ ’ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور سادہ لباس میں افسران نے سکولوں اور تعلیمی اداروں کی خلاف ورزی کی ہے۔‘’اس منظم جبر کے دوران انہوں نے بے رحمی سے متعدد طلبہ اور بچوں کی جانیں لی ہیں۔ حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے اساتذہ ان مظالم اور استبداد کو برداشت نہیں کریں گے اور واضح کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کے لیے ہیں۔ جن گولیوں اور چھروں سے ا?پ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ ہماری روح کو چھلنی کر رہے ہیں۔‘














