جینوا: ۸ اکتوبر (ایجنسیز) یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ جلد ہی یوکرین کو مخصوص قسم کا گولہ بارود فراہم کرنے سے قاصر ہوجائے گا جو روس کے حملے کے خلاف کی یوکرین کی جنگ کیلئے ضروری ہیں کیونکہ اس سامان کا استعمال کمک کی فراہمی سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رواں برس فروری میں روس کے حملے کے بعد سے امریکہ یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے اب تک یوکرین کو امریکہ کی جانب سے 18 اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد فراہم کی گئی ہے۔ سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مارک کینسیئن نے ایک حالیہ تجزیے میں لکھا ہے کہ کچھ سازوسامان کے امریکی ذخائر ’جنگی منصوبوں اور تربیت کے لیے درکار کم سے کم سطح تک پہنچ رہے ہیں۔‘ ایک امریکی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا کہ امریکہ طاقت کی ایک بڑی جنگ میں گولہ بارود کی ضروریات سے متعلق ان مسائل سے ’سبق سیکھ رہا ہے‘، جو توقع سے ’بہت زیادہ‘ ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی دفاعی کمپنیوں نے 1990 کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اپنی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کر دی تھی۔ جس کے بعد اس کے ہتھیاروں کی تعداد اور مقدار میں واضح کمی دیکھی گئی۔ اب امریکی حکومت کو اپنی دفاعی ہتھیاروں کی انڈسٹری کو دوبارہ کھولنے اور سٹنگر طیارہ شکن میزائل جیسی اشیا کی دوبارہ پیداوار شروع کرنے پر راضی کرنا پڑے گا۔ یہ وہ میزائل ہیں جو 2020 کے بعد نہیں بنائے گئے۔ یوکرین کو فراہم کیے گئے کچھ امریکی ہتھیار اس جنگ میں نمایاں حیثیت اختیار کر گئے ہیں جیسے جیولن ٹینک شکن ہتھیار جنہیں یوکرین کی افواج نے دارالحکومت پر روسی پیش قدمی کو ناکام بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا تھا۔ اس کے علاوہ ’ہیمارس‘ راکٹ سسٹم مشرق اور جنوب میں روس کے فوجیوں کے خلاف جوابی کارروائیوں میں اب اس جنگ میں موثر ثابت ہو رہا ہے۔














