بارہمولہ میں جمعرات کو ایک فوجی اہلکار اپنی ہی سروس رائفل سے حادثاتی طور پر گولی چلنے سے ہلاک ہوا ہے ۔ اس سے قبل گزشتہ روز پلوامہ میں ایک پولیس اہلکار کی بندوق سے حادثاتی طور گولی چلنے سے ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی تھی۔ ادھر پولیس نے رام بن سے تعلق رکھنے والے ایک لاپتہ سی آر پی ایف اہلکار کی لاش پنجاب میں برآمد کرلی گئی ہے ۔اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے وتر گام رفیع آباد علاقے میں جمعرات کو اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک فوجی کیمپ میں گولی چلنے کی آواز سنی گئی ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ ایک فوجی اہلکار جس کی شناخت چندر موہن کے بطور ہوئی ہے ایک گاڑی میں سوار چتوسہ کیمپ سے وتر گام جارہا تھا کہ اس دوران اس کی سروس رائفل سے اچانک گولی نکلی جو فوجی اہلکار کے جس میں پیوست ہوئی جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوا۔ زخمی فوجی اہلکار کو اگرچہ فوری طور پر نزدیکی ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرلے معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک پولیس اہلکار کی رائفل سے اسی طرح حادثاتی طور پر گولی چلی جو ایک مقامی نوجوان کے جسم میں پیوست ہوئی جس کی وجہ سے نوجوان کی موت واقع ہوئی تھی ۔ پولیس نے اس ضمن میں بتایا تھا کہ پولیس اہلکار کو گرفتار کرکے اس کے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ دریں اثناءخطہ چناب ،کے ضلع رامبن کے سب ڈویژن رامسو سے تعلق رکھنے والے لاپتہ سی آر پی ایف اہلکار وسیم افضل ولد محمد افضل ساکنہ کھاروان رامسو کی لاش پنچاب کے کھیتوں سے برآمد ہونے کے بعد آج علی صبح چھ بجے اپنے آبائی گاو¿ں کاروان میں سپرد خاک کی گئی۔اہلکار27ستمبر سے لاپتہ تھے۔ وہ اتراکھنڈ سے چھٹی پرگھر آنے کے دوران بذریعہ جہاز دہلی پہنچنے کے بعد وہ بس کے ذریعے انے کے دوران 27ستمبر سے پٹھان کے مرتھل سے لاپتہ تھے۔ ان کی لاش کل بدھ کے روز مرتھل ضلع پٹھان کوٹ سے کے کھیتوں سے بدن ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے اس کا دماغی توازن بگڑا تھا۔ مہلوک اہلکار کوجمعرات کی صبح چار بجے گھر پہنچایا گیا اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ وسیم کو جمعرات کی صبح چھ بجے قریب سپرد خاک کیا گیا اور اس موقع پر سینکڑوں لوگ ان کے جنازے میں شریک تھے۔













