ہمارا مقصد لائیو سٹاک کی پیداواری صلاحیت اور پیداوار کو پائیدار طریقے سے بڑھانا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر
کشمیر اور جموں میں اون کو جمع کرنے ، درجہ بندی کرنے ، چھانٹنے اور پیک کرنے کیلئے کامن فیسلیٹیشن سنٹر قائم کئے جائےں گے ۔ ایل جی
سرینگر 17 ستمبر 2022 ئ
لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے آج یہاں ایس کے آئی سی سی میں ’ قبائلی برادری میں بھیڑ اور بکری پالنے کے نئے افق : چیلنجز اور مواقع ‘ پر ایک ورکشاپ کا افتتاح کیا ۔
لفٹینٹ گورنر نے قبائلی برادری کے مطالبات اور مسائل کو حل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یو ٹی حکومت قبائلی برادری کے مویشیوں کیلئے 1000 شیڈ تعمیر کرے گی ۔
لفٹینٹ گورنر نے مزید اعلان کیا کہ قبائلی امور کا محکمہ اون کاٹنے والی مشینوں اور ہنر مندی کیلئے 1500 سیلف ہیلپ گروپس کو ایک ایک لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرے گا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ 50 سیلف ہیلپ گروپس ہر ایک کو جنریٹر سیٹ اور ” ڈھوک “ کیلئے شمسی توانائی پر مبنی شئیرنگ مشین کیلئے 3 لاکھ روپے ملیں گے ۔
لفٹینٹ گورنر نے بھیڑ پالنے والوں کیلئے سماجی تحفظ کیلئے ایک اسکیم لانے اور مویشیوں کو انشورنس کور فراہم کرنے کیلئے حکومت کے منصوبے کا بھی اشتراک کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیماریوں سے بچاو¿ اور کنٹرول کے اقدامات کیلئے ہیلتھ کارڈز اور صحت کی نگرانی کیلئے ایک جامع پالیسی بھی تیار کی جائے گی ۔
لفٹینٹ گورنر نے جے اینڈ کے ایڈوائزری بورڈ فار ڈیولپمنٹ آف کسان اور یو ٹی کے شیپ ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ کو نئے مواقع تلاش کرنے اور بھیڑ اور بکری پالنے کے شعبے کو اسٹیک ہولڈرز کیلئے مزید منافع بخش بنانے کیلئے ضروری مداخلتوں کی نشاندہی کرنے کیلئے اہم ورکشاپ کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔
لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ زرعی سائینسدانوں ، ماہرین اور قبائلی کمیونٹی کے ارکان کے آج کے دماغی اجلاس کے نتائج کا معروضی طور پر جائیزہ لیا جائے گا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے فائدے کیلئے زمین پر نافذ کی جانے والی حکومتی پالیسیوں میں شامل کیا جائے گا ۔
لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ہمارا مقصد لائیو سٹاک کی پیداواری صلاحیت اور پیداوار کو پائیدار طریقے سے بڑھانا ہے اور برآمدات اور ویلیو ایڈز مصنوعات کی غیر استعمال شدہ صلاحیت پر توجہ مرکوز کرنا ہے ۔
لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ بھیڑوں کی اعلیٰ جینیاتی ممکنہ نسلیں ، کراس بریڈنگ کیلئے غیر ملکی نسلیں ، مارکیٹنگ کی سہولیات اور مقامی بیماریوں کے مسائل سے بچاو¿ کے طریقہ کار سے بھیڑ پالنے کے شعبے میں مجموعی طور پر بہتری آئے گی اور ہمارے مویشی پروڈیوسروں کی ایک بڑی اکثریت کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر ہو گی۔














