سرینگر//آسمانوں میں طیارے اڑانے سے لے کر زمین پر کشمیری ہنر کو دوبارہ زندہ کرنے تک، کمرشل پائلٹ کپتان تنوی رینہ نے ایک نئی پہل شروع کی ہے جس کا نام ہے ’کسب اور قلم‘۔ اس کوشش کا مقصد وادی کے صدیوں پرانے فنون و دستکاری کو نہ صرف محفوظ کرنا ہے بلکہ ان کے خالق کاریگروں اور فنکاروں کو اپنی کہانی سنانے کا موقع بھی دینا ہے۔کپتان تنوی رینہ کو جموں و کشمیر کی سب سے کم عمر خاتون کے طور پر شہرت حاصل ہے جنہوں نے محض 18 برس کی عمر میں کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کیا۔ وہ آج انڈی گو ایئرلائنز میں اپنی کامیاب پیشہ ورانہ زندگی گزار رہی ہیں۔ مگر ہوابازی کے اس سفر کے ساتھ ساتھ اب وہ کشمیری فنون، موسیقی، ادب اور ڈیزائن کے علمبرداروں کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم کھڑا کر رہی ہیں، جہاں ان کی آواز اور جدوجہد سنی جا سکے۔گزشتہ تین برسوں سے تنوی خاموشی سے ”بھارت اینڈ تنوی“کے نام سے ایک ڈیزائن ہاو¿س پر کام کر رہی ہیں، جو نہ صرف ان کے خاندان کی وراثت بلکہ کشمیری تہذیب سے بھی جڑا ہے۔ یہ خیال انہیں اپنے دادا کی مشہور کمپنی ”بھارت ٹرانسپورٹ“ سے ملا، جس کی روح کو وہ ایک نئی شکل دے رہی ہیں۔کشمیری ہنر و دستکاری کے فروغ کے ذریعے۔”کسب اور قلم“ کے تحت وہ کشمیری کاریگروں کے کارخانوں، گھروں اور صحنوں میں بے ساختہ مکالموں کی ایک سیریز شروع کرنے جا رہی ہیں۔ اس کا مقصد صرف فنون کی باریکیوں کو اجاگر کرنا نہیں بلکہ ان مسائل پر روشنی ڈالنا بھی ہے جن کا سامنا کاریگروں کو آج کے صنعتی دور اور کم ہوتے معاشی منافع میں کرنا پڑ رہا ہے۔چاہے وہ مالی مشکلات ہوں، جذباتی دباو¿ یا ذہنی صحت کے چیلنجز۔کپتان تنوی رینہ نے زور دے کر کہاکہ “یہ سوال جواب کا سیشن نہیں ہوگا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ بنانے والے اپنی کہانی خود سنائیں،جہاں بات صرف ہنر تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے پیچھے انسانی جدوجہد اور مشکلات بھی سامنے آئیں۔”













