سرینگر//این آئی اے نے ریاسی بس ملیٹنٹ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں ریاسی اور راجوری کے مختلف مقامات پر چھاپے ڈالے ۔ چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایجنسی نے کئی الیکٹرانک آلات کو اپنے قبضے میں لئے ہیں اور ان کی جانچ شروع کردی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے جمعہ کی صبح ریاسی بس حملے کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ریاسی اور راجوری اضلاع کے متعدد مقامات پر کئی مقامات پر چھاپے مارے۔یہ بس شیو کھوری مندر سے کٹرا جا رہی تھی اور ایک گہری کھائی میں جا گری تھی۔مہلوکین میں راجستھان کا ایک دو سالہ بچہ اور اتر پردیش کا ایک چودہ سالہ لڑکا شامل تھا۔ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے جموں وکشمیر میں سات مقامات پر چھاپے ما رہی ہے۔ ضلع ریاسی کے پونی علاقے میںدہشت گردوں نے یاتریوں سے بھری ایک بس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق جبکہ 41 زخمی ہوئے تھے۔حکام کے مطابق اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں حاکم خان ساکن راجوری کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کو کھانا، پناہ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔














