واشنگٹن/ ایجنسیز/ امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان پیر کو ہونے والی ورچوئل سربراہی ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کا تائیوان کے معاملے پر سخت انتباہی پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق صدر بائیڈن اور شی جن پنگ کے درمیان ورچوئل ملاقات تائیوان، تجارت، انسانی حقوق اور دیگر معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور چینی حکام متعدد مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ تائیوان کو چین میں ضم کیا جائے گا جب کہ تائیوان خود کو ایک خودمختار ملک سمجھتا ہے۔ دونوں رہنماو¿ں کی ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کے لیے جمعے کو چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی وزیرِ خارجہ اینٹی بلنکن نے تائیوان پر بیجنگ کے ‘عسکری، سفارتی اور اقتصادی دباو¿’ پر تشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر وانگ یی نے امریکی اقدامات کے خطرات سے خبردار کیا جو ‘تائیوان کی آزادی’ کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔اس برس نیوزی لینڈ ایشیا پیسیفک اکنامک کو ا?پریشن (ایپیک) فورم کی میزبانی کر رہا ہے جس کا اجلاس ہفتے کے روز ہو رہا ہے۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے یہ اجلاس مسلسل دوسرے برس بھی ورچوئل کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں تائیوان کے قریب اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے اور اکتوبر میں تائیوان کی فضائی حدود میں طیاروں کے ذریعے مداخلت بھی کی تھی۔













