مارچ میں ’خواتین، زندگی، آزادی او ر ایران کیلئے انصاف کے نعرے بلند کئے گئے
واشنگٹن: ۳۲ اکتوبر (ایجنسیز) ایران میں مہسا امینی کی موت کے بعد ہونےوالے ملک گیر مظاہروں کی حمایت میں ایرانی نژااد سمیت ہزاروں افراد نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مارچ کیا۔ ان لوگوں نے نیشنل مال سے شروع ہونے مارچ میں ’خواتین، زندگی، آزادی‘ اور ’ایران کیلئے انصاف‘ جیسے نعرے لگائے۔ منتظمین میں سے ایک سماک آرام نے بتایا کہ ریلی کے اختتام تک لوگوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو جائے گی، اور یہ واشنگٹن میں اس طرح کی پانچویں ریلی ہے، جو ایران میں خواتین کی سربراہی میں ہونے والے احتجاج سے اظہار یکجہتی میں نکالی گئی، ایران میں احتجاج چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متعدد مظاہرین دوسرے شہروں سے آئے، 28 سالہ خاتون نے بوسٹن سے آکر مارچ میں شرکت کی، انہوں نے اپنا نام صرف مہشد بتایا، ان کی ٹی شرٹ پر لکھا تھا کہ ’ایران کی آزادی میں مدد کریں‘۔ مہشد تین برس قبل ایران چھوڑ کر امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم مزید اس ظالم حکومت کو نہیں چاہتے، یہ ہمارے بنیادی انسانی حقوق اور آزادی پر پابندی لگا رہے ہیں۔ ریلی میں شامل دیگر افراد کی طرح انہوں نے بھی اپنا مکمل نام نہیں بتایا کیونکہ انہیں اپنے رشتے داروں کے حوالے سے خوف ہے جو ایران میں مقیم ہیں۔ ایک نوجوان خاتون کی طرف سے تھامے ہوئے پلے کارڈ کے ساتھ بالوں کی پٹی تھی، اس پر لکھا تھا کہ ہمارے بال آپ کو ناراض کرسکتے ہیں لیکن ہمارے دماغ آپ کو ختم کریں گے۔ گزشتہ مہینے 22 سالہ مہسا امینی کو اخلاقی پولیس نے ’غیر موزوں لباس‘ کے باعث گرفتار کیا تھا، حراست کے دوران وہ کومہ میں چلی گئی تھیں جہاں وہ انتقال کر گئی تھیں، ان کی موت کے بعد ایران میں حالیہ سالوں کے بڑے مظاہرے شروع ہوئے۔ ایران میں مظاہرین کی حمایت کے لیے ہفتے کو برلن اور ٹوکیو میں بھی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔














