چھپن نسل کے لوگ باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں : چین
اقوام متحدہ، 22 ستمبر (یو این آئی) چین نے نسلی اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژانگ جون نے بدھ کے روز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے سنکیانگ میں 56 نسل کے لوگ باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں جن میں ہان، ایغور اور قزاقی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں رہنے والے تمام ذاتوں کے لوگوں کی کوششوں سے سنکیانگ مسلسل اقتصادی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کی راہ پر گامزن ہے ۔
مسٹر ژانگ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عمومی بحث کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ چین ان بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے ۔ذات پات، مذہب اور زبان سے متعلق اقلیتوں کے حقوق کے اعلان کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اعلامیہ پر عمل درآمد میں پیش رفت ہوئی ہے ۔ تاہم اقلیتوں کو اب بھی نسل پرستی، امتیازی سلوک، زینو فوبیا، تشدد اور نفرت جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو اعلامیے میں بیان کردہ وعدوں کو حقیقی بنانے کے لیے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کو اقلیتوں کے حقوق کے بہتر تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں اور نسل پرستی، امتیازی سلوک اور نفرت کے خاتمے کے لیے کثیر الجہتی طرز عمل اپنانا چاہیے ۔














