جانشین کا برطانوی تاریخ میں عہدہ ملنے کیلئے طویل ترین انتظار
لندن: ۹ ستمبر (ایجنسیز) اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بالآخر برطانیہ کے بادشاہ بن گئے ہیں۔ شہزادہ چارلس نے بادشاہ بننے کیلئے70 برس انتظار کیا جو کسی بھی جانشین کا برطانوی تاریخ میں عہدہ ملنے کیلئے طویل ترین انتظار ہے۔ اُن کیلئے یہ کردار ایک مشکل کام بھی ہوگا۔ اُن کی آنجہانی والدہ بہت زیادہ مقبول تھیں اور ا±ن کا احترام کیا جاتا تھا لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ایک ایسا شاہی خاندان چھوڑا ہے جس کی ساکھ داغدار اور تعلقات میں تناو¿ ہے۔ ان میں سے ایک بکنگھم پیلس پر نسل پرستی کے طویل عرصے سے لگائے جانے والے الزامات بھی ہیں۔ برطانیہ کی گزشتہ ایک ہزار برس کی تاریخ میں شاہ چارلس سوئم 73 برس کی عمر میں تاج سر پر رکھنے والے سب سے عمر رسیدہ شخصیت ہوں گے۔ ا±ن کے ساتھ دوسری اہلیہ کمیلا ہیں جن کے بارے میں برطانوی عوام کی رائے منقسم ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے بادشاہ کمزور، بے کار اور اس کردار کی خومختاری کے حوالے سے کم صلاحیت کے حامل ہیں۔ اُن کی ماحولیات اور تعمیرات میں گہری دلچسپی کا مذاق اڑایا گیا۔ آنجہانی شہزادی ڈیانا سے ناکام ہونے والی پہلی شادی بھی شاہ چارلس سوئم سے ہمیشہ منسلک رہے گی۔ اُن کے حامی کہتے ہیں کہ ’چارلس کے اچھے کاموں کو نظرانداز کر کے ا±ن کو سمجھا ہی نہیں گیا اور یہ کہ وہ اپنے وقت سے آگے کی سوچ رکھتے ہیں اس لیے ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں حساس ہیں۔‘ شاہ چارلس سوئم کے حامیوں کا استدلال ہے کہ وہ تمام برادریوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اپنے شہریوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ان کے پرنس ٹرسٹ چیریٹی نے تقریباً 50 سال قبل اپنے آغاز کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زیادہ بے روزگار اور پسماندہ نوجوانوں کی مدد کی ہے۔














