مریضوں کو الگ تھلگ کیا گیا، علاقے میں محکمہ صحت کی متعدد ٹیمیں خیمہ زن
شمالی کشمیر کے بارہ مولہ ضلع کے اوڑی علاقے میں منکی پوکس کے دو مشتبہ معاملات کی تصدیق کی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دونوں مشتبہ مریض اوڑی کے دزنا چی پورہ علاقے سے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے طورپر اُنہیں کورنٹائن کر دیا گیا ہے۔ بلاک میڈیکل آفیسر بونیار ڈاکٹر پرویز مسعودی نے بتایا کہ ان دونوں کو بخار اور ان کی جلد پر منکی پاکس یا چکن پوکس سے مشابہت والی نشاندہیاں پیدا ہوئیں۔ ان کے نمونے سکمز مائیکرو بایولوجی ڈپارٹمنٹ کو بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دونوں کے جسم زیادہ تر چہرے اور پیٹ پر ”میکو لوپیپو لریش “ نشان ہیں۔اُن کے مطابق ابھی تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آیا ان افراد کو منکی پوکس ہے یا چکن پوکس لیکن ساتھ ہی اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے نمونے لئے ہیں اور آنے والے دنوں میں رپورٹس آنے کی توقع ہے۔ ڈاکٹر مسعودی نے کہاکہ اس بیماری کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے آگاہی مہم شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی ٹیم کی طرف سے فوری طور پر آبادی میں آگاہی فراہم کی گئی۔ سکول کے اساتذہ پنچایتی نمائندگان، اور مقامی اماموں کو بیدار کیا گیا کہ وہ لوگوں کو بیماری کے بارے میں مکمل طورپر آگاہ کریں تاکہ وائرس کے پھیلاو کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ چھ اکتوبر کو علاقے میں چکن پوکس یا منکی پوکس کے مشتبہ کیس کی اطلاع ملنے پر چیف میڈیکل آفیسر بارہ مولہ کی سربراہی میں ٹیم نے سرویلنس پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیکل بلاک بونیار کے آئی ڈی ایس پی ٹیم نے دزنا لا چی پورہ کا دورہ کیا اور تمام دیہی علاقوں کا معائنہ کرکے متاثرہ لوگوں کو لگ تھلگ کر دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں آٹھ افراد کے نمونے لئے گئے ہیں لیکن علامات کی شدت کی وجہ سے دو افراد کے نمونے سکم کے مائیکرو بویولوجی محکمہ کو جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں تاکہ منکی پوکس کی تصدیق یا امکان کو مسترد کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ منکی پوکس ایک وائرل زونوٹک بیماری ہے جس کی علامات چیچک جیسی ہوتی ہیں حالانکہ اس کی طبی شدت کم ہے ، بڑی تعداد میں ممالک سے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اس وبا کو عالمی صحت کی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔














