نئی دلی/ صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم اور نئی و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد وینکٹیش جوشی نے راشن کی 60 دکانوں کو جن پوشن کیندر میں تبدیل کرنے کے پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے آج یہاں ایف پی ایس سہائے ایپلی کیشن، میرا راشن ایپ 2.0، کوالٹی مینجمنٹ سسٹم، کوالٹی مینوئل ہینڈ بک، کنٹریکٹ مینوئل ایف سی آئی اور 3 لیبارٹریز کی این اے بی ایل ایکریڈیٹیشن کو بھی لانچ کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ شروع کیے گئے تمام 6 پروگرام شفافیت لانے، سخت کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنانے، غذائی قلت کو روکنے اور نظام میں رساو کو روکنے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کریں گے۔گجرات، راجستھان، تلنگانہ اور اتر پردیش میں راشن کی 60 دکانوں (فیئر پرائس شاپس ( کو جن پوشن کیندر میں تبدیل کرنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ کے آغاز کے دوران، جناب جوشی نے کہا کہ جن پوشن کیندر پورے ہندوستان میں راشن کی دکانوں کے ڈیلرز کی آمدنی میں اضافے کے لئے ان کی مانگ کا حل فراہم کرتا ہے۔ یہ مرکز صارفین کو غذائیت سے بھرپور خوردنی اشیاء کی متنوع رینج پیش کریں گے اور ساتھ ہی ایف پی ایس ڈیلرز کی آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بھی فراہم کریں گے۔ جن پوشن کیندر، جو مرکزی حکومت کے پہلے 100 دنوں کے پروگرام کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا گیا ہے، اس میں 50 فیصد مصنوعات کو تغذیہ کے زمرے کے تحت ذخیرہ کرنے کا انتظام ہوگا، جبکہ باقی دیگر گھریلو اشیاء کو رکھنے کے لیے ہو گا۔ مرکزی وزیر نے راشن کی دکانوں کے ڈیلروں کے ساتھ بھی بات چیت کی۔جناب جوشی نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم کی رہنمائی میں، ملک متحرک طور پر وکست بھارت 2047 کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکومت ہند کے محکمہ خوراک اور عوامی تقسیم کے اقدامات اس طرح کی تبدیلی کے لیے ایک محرک کے طور پر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پردھان منتری غریب کلیان انا یوجنا (پی ایم جی کے اے وائی) کو مزید پانچ سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، جس کا تخمینہ تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے ہے تاکہ ملک میں غذائی تحفظ کا دائرہ بڑھایا جا سکے۔ ون نیشن ون راشن کارڈ پہلے ہی ملک بھر میں بغیر کسی رکاوٹ کے لین دین کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ محکمہ کی طرف سے ڈیجیٹلائزیشن کی سرگرم کوششوں کے نتیجے میں فائدہ اٹھانے والوں کو صارف پر مبنی خدمات میں بہتری آئی ہے۔ میرا راشن ایپ 2.0، کوالٹی مینجمنٹ سسٹم، کوالٹی مینوئل، کنٹریکٹ مینوئل، ایف پی ایس سہائے ایپلی کیشن اور لیبارٹریز کی این اے بی ایل ایکریڈیٹیشن کا اجراء ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں کو مزید تقویت دے گا۔ جناب جوشی نے مزید کہا کہ تقسیم عامہ کے محکمہ کے نظام میں مزید اختراعات اور مجموعی بہتری لانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی تجاویز قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔














