نئی دہلی،28مارچ / دہلی ہائی کورٹ نے 2019 کے جامعہ تشدد کیس میں شرجیل امام، صفورا زرگر سمیت 11 ملزمان کو بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی دہلی پولیس کی درخواست پر آج اپنا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس سورناکانتا نے کہا کہ پہلی نظر سے یہ واضح ہے کہ شرجیل سمیت دیگر لوگ بھیڑ میں موجود تھے۔ وہ نہ صرف دہلی پولیس مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے بلکہ پرتشدد طریقے سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔عدالت نے کہا کہ آزادی اظہار اور مظاہرے کے حق کا حوالہ دیتے ہوئے اسے امن میں خلل ڈالنے یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دہلی ہائی کورٹ نے شرجیل امام، آصف اقبال تنہا اور صفورا زرگر سمیت 9 لوگوں کے خلاف آئی پی سی 143، 147، 149، 186، 353، 427 کے تحت الزامات طے کیے ہیں۔ باقی دو افراد محمد ابوجر اور محمد شعیب کو عدالت نے بری کر دیا۔













