آیزول۔22؍ فروری/ آیزورم کے اقتصادی سروے 2022-2023 کے مطابق، ترتیری یا خدمت کا شعبہ میزورم کی معیشت کو آگے بڑھا رہا ہے جس میں اس شعبے کی طرف سے دیے جانے والے مجموعی اسٹیٹ ویلیو ایڈڈ ( جی ایس وی اے) کا 50.08 فیصد حصہ ہے۔منگل کو اسمبلی میں چیف منسٹر زورمتھنگا کی طرف سے پیش کردہ اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) گزشتہ برسوں سے مسلسل متاثر کن شرح سے بڑھ رہی ہے۔مستقل قیمتوں (2011-12 )پر جی ایس ڈی پی کے 19,036.83 کروڑ روپے روپے کی رقم حاصل کرنے کی امید ہے جو گذشتہ سال کے مقابلہ 12فیصد زیادہ ہے۔اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ جی ایس وی اے مستقل (2011-12 )کی قیمتوں پر مالی سال 2011-2012 سے 2021-22 کے دوران 9.43 فیصد کی اوسط سالانہ شرح نمو حاصل کر چکی ہے۔سروس سیکٹر نے 50.08 فیصد کے ساتھ بڑا حصہ ڈالا اس کے بعد صنعت کے شعبے نے 25.09 فیصد اور بنیادی شعبہ جس میں زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیاں شامل ہیں، نے جی ایس وی اے میں 24.83 فیصد حصہ ڈالا۔اقتصادی سروے میں کہا گیا کہ "ترتیری یا خدمت کے شعبے کی قابل ذکر شراکت جس میں کل جی ایس وی اےکا تقریباً 50.08% حصہ ہے، واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شعبہ میزورم کی معیشت کو چلاتا ہے۔اس میں کہا گیا کہ ریاست کی نصف سے زیادہ آبادی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ زراعت سے حاصل کرتی ہے، اس شعبے میں تیز رفتار ترقی ان کی آمدنی میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کا حصہ 2011-12 میں 20.12 فی صد سے بڑھ کر 2021-22 میں 24.83 فی صد ہو گیا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2020-21 میں جی ایس وی اے میں پرائمری سیکٹر نے 25.93 فیصد، صنعت کے شعبے نے (26% )اور ترتیری شعبے (48% )کا حصہ ڈالا۔نئے اقتصادی سروے کے مطابق، مالی سال 2021-22 کے لیے ریاست کی فی کس آمدنی کا تخمینہ 1,75,896 روپے ہے جب کہ پچھلے سال کے تخمینہ 1,79,503 روپے تھا۔














