سیکورٹی فورسز نے جموں و کشمیر میں ’ملی ٹنسی کے نیٹ ورک‘ کو ختم کرنے کیلئے آخری آپریشن شروع کردیا /لیفٹنٹ گورنر
سخت ترین حفاظتی انتظامات کے بیچ سرینگر سمیت وادی کے تمام ضلع صدر مقامات پر یوم آزادی کی تقریبات انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی جس دوران سب سے بڑی تقریب سرینگر کے شیر کشمیر اسٹیڈم میں منعقد ہوئی جہاں جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منو ج سنہا نے ’ترنگا “لہرانے کے بعد مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔اس موقعہ پر جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے جموں و کشمیر میں ’ملی ٹنسی کے نیٹ ورک‘ کو ختم کرنے کے لیے آخری حملہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پتھراو¿، ہڑتالیں، اسکولوں بند ہونا اب تاریخ بن چکی ہے۔ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی تمام کوششوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا، جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے ہر گھر ترنگا مہم کے لیے زبردست جوش و خروش دکھایا۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر اور وادی کے دوسرے ضلع مقامات پر 15اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات منانے کے سلسلے میں یہاں شیر کشمیر سٹیڈیم سرینگر اور دوسرے ضلع صدر مقات اور تحصیل مقامات پر خصوصی تقریبا ت کا انعقاد ہوا ۔ سرینگر کے شیر کشمیر سٹیڈم میں جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے تقریب کامعائینہ کیااور تقریب پر قومی پرچم لہرانے کی رسم انجام دی اور پریڈ پر سلامی لی۔ تقریب میں جموں وکشمیر پولیس،آئی آر پی، سی آر پی ایف ،این سی سی ،فائر اینڈ ایمر جنسی سروسز ،فارسٹ پروٹکشن فورس،جے کے آکزلری پولیس نے حصہ لیا۔ تقریب میں یومِ آزادی منانے کے سلسلے میں ترتیب دئے گئے تمام پروگراموں کا بھی جائزہ لیا گیا ۔اس موقعہ پر اپنی تقریر میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ مرکز کا زیر انتظام علاقہ گذشتہ برس کی تبدیلیوں کے باعث نئی معمولات کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جموں کشمیر میں تبدیلی لانے کیلئے امن اور ترقی کو زینہ بنائیں گے۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ پڑوسی ملک کی طرف سے امن کو غیر مستحکم کرنے کی تمام کوششوں سے پیشہ وارانہ طور پر نمٹا جا رہا ہے۔”ہماری سیکورٹی فورسزامن کو مستحکم کرنے اور اسے ایک مستقل خصوصیت بنانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔“منوج سنہانے مزید کہا ”سڑکوں پر پتھراو¿، ہرتال اور اسکولوں اور کالجوں کی بندش اب ایک تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں سال کے 365 دنوں میں سے، 100 دن ہڑتالوں کا مشاہدہ کرتے تھے جس سے کاروبار، اور اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے بچوں کی تعلیم پر اثر پڑتا تھا “۔ "سنہا نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر امن اور خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بازار رات گئے تک کھلے رہتے ہیں اور عام طور پر شام کے اوقات تک ٹرانسپورٹ چلتی رہتی ہے۔ کوئی خوف نہیں ہے اور عام آدمی راحت کی سانس لے رہا ہے۔“انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے تمام مذموم عزائم اور پروپیگنڈے کا سیکورٹی فورسز اور انتظامیہ کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز نے پڑوسی ملک کے ذریعہ چلائے جانے والے "ملی ٹنسی کے نیٹ ورک “کو ختم کرنے کے لئے آخری حملہ شروع کیا ہے۔














