یوکرین پر روسی حملے کے خدشہ کے پیش نظر امریکہ کا سفارتی عملہ نکالنے کا اعلان
واشنگٹن/ ایجنسیز/ مغربی انٹیلی جنس حکام کی طرف سے یوکرین پر ممکنہ روسی حملے سے متعلق خبر دار کیے جانے پر امریکہ نے دارالحکومت کیف سے اپنا سفارتی عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثنا روس، یوکرین تنازع کو پرامن طور پر حل کرنے کیلئے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اور اس ضمن میں روسی صدر ولادی میر پوٹن کی امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی متوقع ہے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق سفارتی عملے کے چند ارکان کیف میں موجود رہیں گے تاہم لگ بھگ 200 اہل کاروں کا انخلا کیا جائے گا۔ سفارتی عملے کے ان ارکان کو مغربی یوکرین یا پولینڈ کی سرحدسے ملحقہ علاقوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو کیف سے نکلنے کی ہدایت کی تھی۔ امریکی حکام گزشتہ چند روز سے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے اور یہ حملہ چین میں جاری ونٹر اولمپکس کے دوران بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدےدار نے بتایا کہ سفارتی عملے کے کچھ اہلکاروں کو پولینڈ کی سرحد کے قریب منتقل کیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ پولینڈ نیٹو اتحاد میں شامل ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے اعلان کیا تھا کہ وہ مزید تین ہزار فوجی پولینڈ بھیج رہا ہے جہاں پہلے سے 1700 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تین ہزار امریکی فوجی نارتھ کیرولائنا سے آئندہ د و روز میں پولینڈ کیلئے روانہ ہوں گے اور ان کا مقصد یوکرین جنگ میں شامل ہوئے بغیر خطے میں نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعاون ہو گا۔دسمبر میں روسی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کی تھی جس میں امریکی صدر نے یوکرین تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود یوکرین سے ملحقہ سرحد پر روسی فوجیوں کی نقل و حرکت میں تیزی دیکھی گئی تھی۔













