سوپور پولیس نے ممنوعہ عسکری تنظیم البدر کے گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 4عسکریت پسندوں سمیت سات افراد کی گرفتار ی عمل میںلائی ہے جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ گولہ بارود ، قابل اعتراض مواد اور نقدی رقم بر آمد کرکے ضبط کی ۔ادھر ڈی آئی جی شمالی کشمیر رینج کا کہنا تھا کہ اب کم ہی مقامی نوجوان عسکری صفوں میں شمولیت کر رہے ہیں اور کہا کہ بانڈی پورہ حملے میںملوثین کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سوپور پولیس نے ایک خصوصی کارورائی کرتے ہوئے عسکری تنظیم البدر سے وابستہ چار جنگجوﺅںکو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس ضمن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ڈی آئی جی شمالی کشمیر رینج اودی باسکر نے بتایا کہ ایک مخصوص اطلاع موصول ہونے سوپور پولیس ، فوج اور سی آر پی ایف نے ایک مشترکہ کاروائی رفیع آباد میں شروع کیا گیا، جس دوران کہ کالعدم عسکری تنظیم البدر سوپور میں کئی مقامات پر سیکورٹی فورسز پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔اور ان کی تلاش شروع کر دی ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک خصوصی کارورائی کے دوران رواچھ رفیع آباد میں عسکری تنظیم ست وابستہ3 غیر زمرہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود سمیت قابل اعتراض مواد برآمد کر لیا گیا۔جن کی شناختوارث تانترے ولدعبدالطیف تانترے ساکن راوچہ رفیع آباد، محمد سلطان وانی ولد محمد سلطان وانی ساکننوپورہ سوپور، طارق احمد بٹ ولد ثناءاللہ بٹ ساکن چونٹی پورہ ہندواڑہ کے بطور ہوئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے ہینڈلرز عرفیوسف بلوسی ساکنپاکستان اور عرفخورشید ساکناننت ناگ حالپاکستان کی ہدایت پر البدر تنظم کے لیے پچھلے 2 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔جن کو رفیع آباد سوپور میں عسکریت پسندی کو بحال کرنے، البدر تنظیم میں نوجوانوں کی بھرتی، عسکریت پسندوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے، نئے بھرتی ہونے والوں کے لیے ہتھیاروں کی خریداری اور بندوبست وغیرہ کے لیے کا م دیا گیا تھا۔ نذیر احمد بٹ کو سوپور پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ کاروائی میں اٹھایا اور تین ساتھیوںآپر گراونڈ ورکرمحمد اشرف ملک ولد محمد اکبر ملک ساکن ڈرنگسو، محمد افضل ٹھوکر ولد عبدالعزیز ٹھوکر ساکن کالم آباد ماور ہندواڑہ اور شبیر احمد شاہ ولد غلام حسن شاہ شیرامہ ماور ہندواڑہ کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود، بھاری رقم اور دیگر جنگی سامان سمیت مجرمانہ مواد بھی برآمد کیا گیا۔تھانہ پولےس ڈنگےوچہ رفےع آباد نے اس سلسلے میں ایک کیس ایف آئی آر نمبر۔ 14/2022 قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔














