حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی اہم جماعت کے ارکان میں نوک جھونک
خصوصی آئینی پوزیشن کی تنسیخ تقدیر سازاقدام :سرجیت سنگھ سلاتھیہ، تنسیخ ایک افسوسناک واقعہ: نیشنل کانفرنس
سری نگر/ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران سابق ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کرنے اور ریاست کو2مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے اگست2019میں لئے گئے فیصلے پر حکمران جماعت اور حزب مخالف کے ارکان کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ جاری ہے۔جے کے این ایس کے مطابق بدھ کو اجلاس کے دوران جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن سرجیت سنگھ سلاتھیہ نے مرکزی حکومت کے اس اقدام کو تقدیر ساز قرار دیا تو نیشنل کانفرنس کے ارکان سیخ پا ہو گئے۔حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے ارکان قانون ساز اسمبلی نے سلاتھیہ کے بیان پر اعتراض کیا اور ایوان میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، بی جے پی کے دیگر ارکان اسمبلی اپنے ساتھی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کی حمایت میں آگے آئے،جسکے بعد نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے ممبران اسمبلی کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی۔ نیشنل کانفرنس کے ممبران اسمبلی نے سرجیت سنگھ سلاتھیہ کے دعوے کومستردکرتے ہوئے کہاکہ سابق ریاست جموں و کشمیر کیلئے آئین ہند کی خصوصی دفعہ 370 اور 35 اے کی تنسیخ ایک افسوسناک واقعہ ہے جو عوام کی مرضی کے خلاف عمل میں لایا گیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ایک ممبر اسمبلی نے بھاجپا ممبر سرجیت سنگھ سلاتھیہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اپنی بات پر خود غور کریں اور اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ کیا وہ واقعی ان خصوصی دفعات کی منسوخی سے مطمئن ہیں۔سرجیت سنگھ سلاتھیہ نے تاہم اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ مرکز میں ان کی حکومت نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی بہتری کے لئے کیا ہے۔واضح رہے کہ سرجیت سلاتھیہ ماضی میں نیشنل کانفرنس کے جموں صوبے میں ایک اہم لیڈر رہے ہیں۔ انہیں نیشنل کانفرنس کی مختلف حکومتوں میں کابینہ میں بھی شامل کیا گیا تھا تاہم گزشتہ چند سال کے دوران انہوں نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنا ناطہ توڑ دیا اور بھاجپا میں شمولیت اختیار کی۔ بھاجپا میں شامل ہونے کیلئے اُنہیں نگروٹہ سے جیتنے والے بھاجپا لیڈر آنجہانی دویندر سنگھ رانا نے آمادہ کیا تھا۔ دویندررانا ماضی میں نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ کے قریبی ساتھی تھے اور انکی حکومت کے دوران وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر بھی رہے۔دویندرسنگھ رانا اسمبلی الیکشن جیتنے کے چند دن بعد ہی انتقال کرگئے۔دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وقفہ سوالات پرامن طریقے سے گزرا جس میں غیر قانونی کان کنی، منشیات کی بدعت اور پاور سیکٹر سے متعلق کچھ مسائل اٹھائے گئے۔جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بات کرتے ہوئے ممبراسمبلی ڈوڈہ معراج ملک نے الزام عائد کیا کہ اس بدعت میں اضافے کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہے اور جب پڑھے لکھے نوجوانوں کے پاس کوئی روزگار نہیں ہے تو وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہونے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے شراب کی دکانوں کو بند کرنے اور منشیات کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کا مطالبہ کیا جو صرف نشے کے مراکز کھولنے تک محدود نہ رہے۔ معراج ملک کا تعلق عام آدمی پارٹی کے ساتھ ہے۔پانپور سے این سی ممبراسمبلیحسنین مسعودی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے 10 لاکھ نوجوان منشیات کی لت میں ملوث ہیں اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ممبراسمبلی کولگام محمدیوسف تاریگامی نے ایک ہاو س کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا تاکہ اس خطرے کا جائزہ لیا جا سکے کہ یہ کس طرح بڑھ رہا ہے۔اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اعلان کیا کہ مسئلہ کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس پر غور و خوض اور اراکین سے تجاویز لینے کے لیے آدھا گھنٹہ بحث کی جائے گی۔غیر قانونی کان کنی کے معاملے پر بی جے پی ایم ایل اے آر ایس پٹھانیہ نے ڈپٹی سی ایم سریندر چودھری کو نشانہ بنایا، جو کان کنی کے وزیر بھی ہیں، ادھم پور میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پٹھانیہ نے کہا کہ جب کان کنی کے وزیر کارروائی نہیں کر رہے ہیں تو ان کی جگہ ایک شیڈو کان کنی وزیر اس کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیراعلیٰسریندر چودھری نے پٹھانیہ کو شیڈو منسٹر پر ثبوت پیش کرنے کا چیلنج دیا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی ایم ایل اے اس حقیقت سے پریشان ہیں کہ حکومت نے غلطی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی ہے۔














