کئی اہم ونازک معاملات پر گرم گرم بحث وتکرارمتوقع
لیفٹنٹ گورنر کے خطاب کے دوران2شہریوںکی ہلاکت کا معالہ اُٹھانے پر ممبراسمبلی لنگیٹ ایوان بدر
سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے علاوہ 4سیاسی شخصیات کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے2منٹ کی خاموشی
سری نگر /پیرکی صبح ٹھیک 10بجے شروع ہونے والاجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا اجلاس ،7سال کے طویل عرصے بعد ہونے والا پہلا بجٹ اجلاس ہے ،جو11اپریل تک جاری رہے گا ۔7مارچ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جن کے پاس خزانہ کا قلمدان ہے، اپنا پہلا بجٹ پیش کریں گے۔بجٹ اجلاس کے ہنگامہ خیزہونے کی توقع کے بیچ پہلے ہی روز ممبراسمبلی لنگیٹ کو لیفٹنٹ گورنر کے خطاب کے دوران دوشہریوںکی ہلاکت کامعاملہ ایوان میں اُٹھانے پر اسمبلی سے نکال باہر کردیاگیا۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرکی قانون سازاسمبلی کا بجٹ اجلاس پیرکی صبح دس بجے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے شروع ہوا۔ جموں میں پیرکی صبح 7 سال بعد شروع ہونے والے پہلے اسمبلی اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے، کیونکہ آرٹیکل 370و35A،ریاستی حیثیت کی بحالی، شراب پر پابندی، ریزرویشن میں عدم مساوات،ہزاروں عارضی ملازمین کی مستقلی ، جیسے اہم اور نازک معاملاتبحث کا مرکز بن سکتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اس کے ارکان کسی بھی ملک مخالف بل کو ایوان میں پیش ہونے نہیں دیں گے۔جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی 90 منتخب اراکین پر مشتمل ہے۔ یہ تعداد 95 تک جا سکتی ہے کیونکہ ایل جی کے پاس5ممبران کو گھر میں نامزد کرنے کا اختیار ہے جس میں 2خواتین، 2کشمیری پنڈت برادری سے ہیں جن میں ایک عورت بھی شامل ہے، اور ایک پاکستانی زیر کنٹرول کشمیرسے بے گھر افراد کی نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم لیفٹیننٹ گورنر نے ابھی تک5 ارکان کو نامزد نہیں کیا ہے۔ یہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے کیونکہ نیشنل کانفرنس کو ایوان میں آرام دہ اکثریت حاصل ہے۔چونکہ بی جے پی کے ایک رکن دویندرسنگھ رانا کا انتقال ہوگیا اور وزیراعلیٰ نے88 رکنی جموں و کشمیر اسمبلی میں سے بڈگام سیٹ خالی کردی،نیشنل کانفرنس کے پاس 41 ارکان ہیں جن میں4 آزاد، 6 کانگریس اور دو ارکان ہیں جن کا تعلق (سی پی آئی ایم) اور اے اے پی سے ہے جو عمر حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔ بی جے پی کے 28 ارکان ہیں۔جموں وکشمیرکی قانون ساز اسمبلی کا آخری بجٹ اجلاس جنوری-فروری2018 میں منعقد ہوا تھا،اوراسوقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے آخری بجٹ اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ یہ سیشن خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ جون2018 میں محبوبہ مفتی کی قیادت والی حکومت کے خاتمے کے بعد، پی ڈی پی کے ساتھ بی جے پی کے اتحاد سے دستبرداری کے بعد پہلا بجٹ اجلاس ہوگا۔جہاں تک تقریباًایک ماہ تک جاری رہنے والے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں زیر بحث آنے والے اہم اور نازک معاملات کا تعلق ہے تو اسمبلی اجلاس کے دوران مختلف نجی بلز پر توجہ مرکوز رہے گی۔ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ممبراسمبلی ہندواڑہ سجاد لون نے ایک بل پیش کیا ہے جس میں 5 اگست 2019 کو مرکز کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کی مذمت اور ان کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔2 اپوزیشن ارکان اور حکمران جماعت این سی کے ممبراسمبلی نے جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی لگانے کے لئے بل پیش کیے ہیں۔نیشنل کانفرنس کے ا ممبراسمبلی ڈاکٹر بشیر احمد ویری نے ایک بل جمع کرایا ہے، جس میں ریاست میں ریزرویشن کے نظام کو متوازن کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس بل میں60 فیصد نشستیں اوپن میرٹ اور 40 فیصد مخصوص زمروں کیلئے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے برعکس، ایل جی انتظامیہ نے گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے قبل ریزرویشن پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اوپن میرٹ کو صرف 30 فیصد تک محدود کر دیا اور مخصوص زمروں کا کوٹہ70 فیصد تک بڑھا دیا تھا، جس پر شدید اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔اس اسمبلی اجلاس میں سیاسی گرما گرمی کا امکان ہے، کیونکہ مختلف جماعتیں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہیں۔ حکومت کو حزبِ اختلاف کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بی جے پی نے بھی جارحانہ حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ یہ اجلاس کس سمت جاتا ہے اور جموں و کشمیر کی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اسمبلی کا بجٹ اجلاس گرما گرم ہوسکتاہے کیونکہ اپوزیشن پارٹیاں، بشمول بی جے پی، پی ڈی پی ، اور پیپلز کانفرنس، این سی حکومت کو کئی مسائل پر گھیرنے کے لئے تیار ہیں۔سیشن پر غالب آنے والے اہم مسائل میں انتخابی وعدے، آرٹیکل 370 کی منسوخی،ریاستی حیثیت کی واپسی،عارضی ملازمین کی مستقلی،شراب پر پابندی اور جاری ریزرویشن میں توازن یامساوات شامل ہیں۔اس دوران جموں وکشمیر قاون سازاسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پہلے ہی کٹھوعہ، بارہمولہ اموات پر اسمبلی میں ایل جی کے خطاب کے دوران ممبراسمبلی لنگیٹ شیخ خورشید نے احتجاج کیااوران کو مارشلوں کے ذریعے ایوان سے باہر نکالاگیا۔میڈیا ذرائع کے مطابق، جیسے ہی ایل جی نے اپنا خطاب شروع کیا،شیخ خورشید نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے، قانون ساز اسمبلی کے مرکزی ہال کے اندر بارہمولہ اور کٹھوعہ میں مارے گئے 2 افراد کے اہل خانہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔تاہم اسپیکر عبدالرحیم راتھر کے حک پر مارشلوںنے ممبراسمبلی لنگیٹ شیخ خورشید نے ایوان سے باہر نکالا۔














