نئی دلی//وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) – ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے تعاون سے چار مارچ 2025 کو نئی دہلی کے ڈی آر ڈی او بھون میں ، قدرتی آفات سے متعلق کارروائیوں اور داخلی سلامتی کے لئے جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال ’ پر کانفرنس -کم- ایگزیبیشن کا افتتاح کیا۔ڈی آر ڈی او کے ڈائریکٹوریٹ آف لو انٹینسٹی کانفلک (ڈی ایل آئی سی) کے تحت منعقدہ اس دو روزہ کانفرنس کا مقصد مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایفس) کے افسران کو اپنی کارروائیوں کے دوران جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا تھا ۔ اس انعقاد نے بھارت کی داخلی سلامتی اور قدرتی آفات کے رد عمل کے فریم ورل کو مضبوط بنانے کے لئے نظریات کے تبادلے کے خاطر ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، جناب راج ناتھ سنگھ نے عالمی سلامتی میں بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں اور اندرونی اور بیرونی خطرات کے درمیان بڑھتے فرق پر روشنی ڈالی۔ "جدید دنیا میں سیکورٹی کے چیلنجز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہمارے ادارے کھل کر ایک مضبوط، محفوظ اور خود انحصار ہندوستان کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون سے کام کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی قومی سلامتی کو مجموعی طور پر دیکھا جانا چاہئے، مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کی کوششوں کو مربوط کرتے ہوئے اور جدید ترین تکنیکی ترقی سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے سیکورٹی آلات کو سائبر جنگ ، ہائبرڈ جنگ ، خلائی بنیاد پر چیلنجز، اور بین الاقوامی منظم جرائم جیسے ابھرتے ہوئے خطرات سے ہم آہنگ رہنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی داخلی سلامتی صرف دہشت گردی، علیحدگی پسند تحریکوں اور بائیں بازو کی انتہا پسندی جیسے روایتی خطرات سے نمٹنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ غیر روایتی خطرات کے لیے تیاری کے بارے میں بھی ہے ،جو ملک کے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ "آج کے مخالفین ہمیشہ روایتی ہتھیاروں کے ساتھ نہیں آتے ہیں۔ سائبر حملے، غلط معلومات کی مہمات، اور خلائی بنیاد پر جاسوسی نئے دور کے خطرات کے طور پر ابھر رہے ہیں، جن کے لیے جدید حل کی ضرورت ہے۔”وزیر دفاع نے کہا کہ "ڈی آر ڈی او نے ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، اور داخلی سلامتی میں اس کا تعاون بھی اتنا ہی قابل ستائش ہے۔ چھوٹے ہتھیاروں اور بلٹ پروف جیکٹس سے لے کر نگرانی اور مواصلاتی نظام تک، ڈی آر ڈی او کی اختراعات ہماری سیکورٹی فورسز کو بااختیار بنا رہی ہیں”۔ انہوں نے ڈی آر ڈی او اور ایم ایچ اے پر زور دیا کہ وہ قابل توسیع مصنوعات کی ایک مشترکہ فہرست بنانے کے لیے مل کر کام کریں، جنہیں مشترکہ طور پر تیار کیا جا سکے اور مقررہ وقت میں تعینات کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری سیکورٹی فورسز کو وقت سے آگے رہنے کے لیے بہترین آلات اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ جدید کاری پر ڈی آر ڈی اوکی توجہ کو دیکھنا حوصلہ افزا ہے،کیونکہ چھوٹے ہتھیاروں، نگرانی کے سازوسامان اور ڈرون سسٹم جیسی مصنوعات کو داخلی سلامتی ایجنسیوں میں تعیناتی کے لیے شامل کیا گیا، یا وہ تیاری کے مراحل میں ہیں ، ،۔جناب راج ناتھ سنگھ نے وزیر داخلہ کے طور پر اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح سیکورٹی ایجنسیوں اور سائنسی اداروں کے درمیان تعاون نے اہم تکنیکی ترقی کی ہے۔ انہوں نے کارنر شاٹ ویپن سسٹم، آئی این ایس اے ایس رائفلز، آئی ای ڈی جیمر گاڑیاں اور فسادات پر قابو پانے والی گاڑیوں جیسی ڈی آر ڈی او کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کی مثالیں پیش کیں، جنہیں سی اے پی ایفزکے آپریشنز میں مؤثر طریقے سے شامل کیا گیا تھا۔














