نئی دہلی/بلاس پور، 28 فروری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ کے سرخیوں میں رہنے والے نان گھپلے کے ملزم اور سابق ایڈوکیٹ جنرل (اے جی) ستیش چندر ورما کی عرضی کی سماعت کے بعد جمعہ کو انہیں پیشگی ضمانت دے دی۔جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا کی بنچ نے سول سپلائی کارپوریشن (این اے این) گھپلے میں ان کے مبینہ ملوث ہونے کے سلسلے میں کیس کی سماعت کے بعد انہیں پیشگی ضمانت دے دی۔ عدالت نے مسٹر ورما کو جاری تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔پچھلی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مسٹر ورما کو عبوری راحت دی تھی اور ریاستی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے دو دن کا وقت دیا تھا۔درخواست گزار سابق ایڈوکیٹ جنرل کی طرف سے وکیل مکل روہتگی، وویک تنکھا اور ورون تنکھا نے پیروی کی۔ مسٹر ورما نے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔کیس کی سماعت کے دوران مسٹر ورما کے وکلاءنے عدالت کو بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جس کیس میں سابق اے جی کو ملزم بنایا ہے وہ 2015 کا معاملہ ہے ۔ چھتیس گڑھ حکومت کے سابق آئی اے ایس انل ٹوٹیجا کا معاملہ 2019 میں حل ہو گیا تھا۔ ایک اور ملزم آلوک شکلا کا معاملہ 2015 میں ہی حل ہو گیا تھا۔طویل عرصے کے بعد ای ڈی نے سابق اے جی پر نان گھپلہ میں ملوث ریاستی حکومت کے دو افسران کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا ہے ۔














