حکومت نےSHOs، SDPOs اورDSPsکواہم ذمہ داری تفویض کردی
استحصال کی روکتھام کیلئے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں بطور خصوصی پولیس افسران کے تعینات
سرینگر:۵،فروری: جے کے این ایس : جموں وکشمیرحکومت نے’ انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے واقعات کی روکتھام ‘کیلئے ایس ایچ اوﺅز ،ایس ڈی پی اوﺅز اورDSPsہیڈکوارٹرکو اہم ذمہ داری سونپ دی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرکے محکمہ داخلہ میں تعینات پرنسپل سیکرٹری چندریکر بھارتی (آئی اے ایس )کی جانب سے اس سلسلے میں حکومت کے حکم پرایک نوٹیفکیشن 31جنوری2025کو جاری کی ہے ۔نوٹیفکیشن میں کہاگیاہے کہ جموں و کشمیر کی حکومت نے جموں و کشمیر پولیس کے اسٹیشن ہاو ¿س آفیسرز (SHOs)، جو انسپکٹر کے عہدے سے نیچے نہیں ہیں، ایس ڈی پی اوﺅز اورڈی وائی ایس پی ہیڈکوارٹر کےساتھ، غیر اخلاقی ٹریفک (پریونشن) ایکٹ (ITPA)1956 کے تحت اپنے اپنے دائرہ اختیار میں خصوصی پولیس افسران کے طور پر تعینات کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔حکومت کے پرنسپل سکریٹری چندرکر بھارتی کی طرف سے جاری کردہ یہ فیصلہ اس موضوع پر سابقہ تمام نوٹیفیکیشنوں کی جگہ لے لیتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تجارتی مقاصد کےلئے انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے خلاف نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے۔خاص طور پر، غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ،1956 ایک ہندوستانی قانون ہے جو انسانی اسمگلنگ اور افراد کے منظم تجارتی استحصال کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔













