ریاستی درجے کی بحالی کیلئے اللہ تعالیٰ کی منظوری کاانتظار:ڈاکٹرفاروق
سرینگر:/نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پھریہ بات دوہرائی ہے کہ آرٹیکل 370کشمیریوں کےلئے نہیں بلکہ جموں کے ڈوگروں کے لیے تھا۔جے کے این ایس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز جموںمیں کہاکہ مہاراجہ نے 1927 میں ڈوگروں کی سرزمین جموں کے تحفظ کے لیے دفعہ 370 کا اہتمام کیا تھا۔ فاروق عبداللہ نے جموں میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدشات تھے کہ پنجاب کے باشندے جموں و کشمیر میں آباد ہو جائیں گے، اسلئے آرٹیکل 370 ایک صدی قبل ڈوگروں کی سرزمین جموں کے تحفظ کے لیے لایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ کشمیریوں کے لئے نہیں بلکہ ڈوگروں کے لیے لایا گیا تھا۔ کشمیر میں کوئی نہیں آئے گا کیونکہ وہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کاکہناتھاکہ ایک پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ہندﺅ خطرے میں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموں کی80 فیصد آبادی کو کوئی بھی خطرہ نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو باہر سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس وقت بھارت کو اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے یہ بھی کہا کہ وہ سوچیں کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا۔انہوں نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرحوم مفتی محمد سعید تھے جنہوں نے مخلوط حکومت بنائی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو جموں و کشمیر میں لایا۔ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ نیشنل کانفرنس ، کانگریس اور دیگر جماعتوں نے ہماری حمایت کے لیے ان سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کو خود کا جائزہ لینا چاہیے اور اس کے اندر دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت کو کوئی بھی حکم نہیں دے سکتا کیونکہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب بحال کیا گیا، انہوں نے طنزیہ کہا کہ یہ کب اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور بحالی پر،فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی نے گزشتہ10 سالوں میں جموں و کشمیر پر حکومت کی ہے اور ان کے سامنے یہ سوال پیدا ہونا چاہیے تھا کہ اس عرصے کے دوران انہوں نے کتنے مہاجر خاندانوں کی بحالی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار نوکریوں کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن کوئی ان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ انہوں نے گزشتہ 10 سالوں میں کتنی ملازمتیں فراہم کیں بلکہ نیشنل کانفرنس سے پوچھیں گے جو صرف 3 ماہ قبل اقتدار میں آئی تھی اور اس کے پاس اپنے تمام کام پورے کرنے کے لئے پانچ سال ہیں۔ فاروق عبداللہ نے انتخابات میں بی جے پی کے ذریعہ مرکزی حکومت کے مبینہ غلط استعمال پر میڈیا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ میں میڈیا کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی رپورٹنگ سے نفرت کو دور کریں اور محبت پھیلانے کے لیے کام کرنے کی کوشش کریں۔ڈاکٹر فاروق کاکہناتھاکہ اگر ہم نفرت پھیلاتے رہیں گے، تو ہم ملک کو نہیں بچا سکتے۔














