واشنگٹن/ ایجنسیز/ سابق امریکی صدر براک اوباما نے پیر کو گلاسگو میں اقوام متحدہ کی جانب سے منعقدہ موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس کو بتایا کہ زیادہ تر ملک 2015ئ کے پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے سمجھوتے سے متعلق وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور ٹھوس کام کے لحاظ سے موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے کام کی جانب جاتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دیتے۔ سابق صدر اجلاس کے دوسرے ہفتے کی کارروائی سے خطاب کر رہے تھے، جو ‘سی او پی 26 ‘کے نام سے منسوب ہے۔ اوباما نے کہا کہ پیرس کانفرنس اور اس کے بعد طے ہونے والا سمجھوتا اس بات کا مظہر تھا کہ کیا کچھ کیا جانا ہے اور کیسے کیا جانا ہے، تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے بحران کے چیلنج سے مو¿ثر طور پر نبردآزما ہوا جا سکے۔ لیکن، زیادہ تر ملک اتنے سرگرم دکھائی نہیں دیے جتنا کہ ان کو ہونا چاہئے تھا۔ اوباما کے بقول، ”بحرانی صورت حال سے نمٹنے اور بڑھ چڑھ کر چیلنج کا مقابلہ کرنے کا جذبہ جس کی چھ سال قبل توقع کی جارہی تھی، اسے یکسوئی سے نہیں نبھایا گیا”۔انہوںنے اس بات کو ”خاص طور پر حوصلہ شکن” قرار دیا کہ چین اور روس کے سربراہان، جو سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرنے والے ملک ہیں، انھوں نے اس اجلاس میں شرکت تک سے انکار کیا ہے، اور دونوں ملکوں نے، بقول ان کے، یہ ثابت کر دیا ہے کہ انھیں موسماتی تبدیلی کے خطرے کی اہمیت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے”۔













