جموں کشمیر میں جو بھی پارٹی حکومت بنائے گی اس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر
تبدیلی کا مشاہدہ زمینی سطح پر کرنے والے لوگوں سے خطے کی ترقی کے بارے میں پوچھنا چاہئے کہ کیا تبدیلی آئی
سرینگر//: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں مفت خدمات کا دور ختم ہو چکا ہے، اور جسے بجلی اور پانی چاہئے انہیں ہر چیز کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔انہوںنے بتایا کہ جموں کشمیر میں جو بھی جماعت حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگی اس کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے گا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جو بھی پارٹی اگلی حکومت بنائے گی اسے ان کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔ایل جی نے کہا کہ مذہبی عالم اور حریت سربراہ میر واعظ عمر فاروق جہاں چاہیں جانے کے لیے آزاد ہیں اور ان کی آزادی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔کشمیری پنڈتوں کے بارے میں سنہا نے کہا کہ اگر ان میں سے 50 فیصد یہ نہیں بتاتے کہ یہ پانچ سال ماضی کے مقابلے ان کے لیے بہتر رہے ہیں، تو میں خطہ چھوڑ دوں گا۔انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی "سب سے بڑی کامیابی عسکریت پسندوں کی صفوں میں مقامی بھرتی کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حقیقت سے پریشان ہے اور اب پاکستان جموں خطے میں عسکریت پسندی کو بحال کرنے کے لیے دراندازوں کو بھیج رہا ہے۔سنہا ڈل جھیل کے کنارے انڈیا ٹوڈے سے بات کر رہے تھے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی پر ان کے ‘بادشاہ’ تبصرہ پر تنقید کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ اگر گزشتہ پانچ سالوں میں عوام کی فلاح و بہبود آج تک کی ‘پنچایت’ میں75 فیصد سے زیادہ لوگ یہ نہیں کہتے ہیں کہ کام کیا گیا ہے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ سنہا نے کہا کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد عوامی جذبات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک رائے شماری کرائی جا سکتی ہے۔ اس موقعے پر انہوںنے کہا کہ ‘انہیں (راہول گاندھی) کو عوام کی رائے لینا چاہئے، وہ زیادہ باخبر ہوں گے۔ خفیہ رائے شماری کروائیں۔ اگر 75 فیصد سے زیادہ عوام یہ نہیں کہتے ہیں کہ پچھلے پانچ سالوں میں ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا گیا ہے، تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔اپنے حالیہ دورہ کشمیر کے دوران راہول گاندھی نے لیفٹیننٹ گورنر کے کام کاج کا ماضی کے بادشاہوں سے موازنہ کیا۔ گاندھی نے بانہال میں ایک انتخابی ریلی میں کہا تھا، ”یہاں جموں و کشمیر میں ایک بادشاہ بیٹھا ہے جس کا نام ایل جی ہے جو آپ کی دولت لے رہا ہے اور ٹھیکیداروں کو لا کر باہر سے لوگوں کو دے رہا ہے۔“سنہا نے تاہم کہا کہ جموں و کشمیر میں جو بھی پارٹی اگلی حکومت بنائے گی اسے ان کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔ یہ تبصرہ اس وقت آیا ہے جب اپوزیشن نے مرکز کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر کے انتظامی اختیارات کے دائرہ کار میں توسیع پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔”مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں، جو بھی حکومت آئے گی، اسے میری مکمل حمایت حاصل رہے گی۔منوج سنہا نے یہ بھی کہا کہ 18 ستمبر سے تین مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات مکمل طور پر آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔ رات گیارہ بجے بھی لوگ کھانے کے لیے باہر جا رہے ہیں۔ مہم بھی آدھی رات تک جاری ہے۔حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ریکارڈ ووٹر ٹرن آو¿ٹ پر، سنہا نے کہا کہ یہ لوگوں کی وجہ سے ہے جو پاکستان کی سازش کو سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مستقبل ہندوستان کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا الیکشن کمیشن کے مطابق جموں و کشمیر میں 58.46 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جو گزشتہ 35 سالوں میں لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ”جموں و کشمیر کے لوگوں، خاص طور پر وادی کے لوگوں نے ہندوستان کی جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔سنہا، جو 2020 سے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر ہیں، نے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن کو جان لینا چاہیے کہ آرٹیکل 370 اب آئین کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے مرکز کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔













