مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو کثیرالجہتی فضائی مشق ‘ ترنگ شکتی 2024 میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’’بھارتی فضائیہ اور دفاعی شعبہ خود انحصار ہندوستان کے عزم کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے دفاعی شعبے نے ہتھیاروں، پلیٹ فارمز اور ہوائی جہازوں کی تیاری میں مقامی بنانے کی طرف مضبوط قدم اٹھایا ہے۔ سینئر دفاعی افسران اور شریک ممالک کے اعلیٰ دفاعی افسران سے اپنے خطاب میں راجناتھ سنگھ نے کہا، ہم بڑے پیمانے پر خود کفیل ہو گئے ہیں۔ ہلکے جنگی طیارے، سنسر، ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر جیسی چیزوں میں، اور ہم ان شعبوں میں آگے بڑھنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔پہلے، ہندوستان کو ہتھیاروں اور ساز و سامان کے معاملے میں صرف ایک درآمد کنندہ ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج ہندوستان تقریباً 90 ممالک کو اسلحہ اور سازوسامان برآمد کرتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں، جو فضائیہ اور دفاع کے ارتقا کی سنہری کہانی بیان کرتی ہیں۔ ‘ترنگ شکتی’ کو دو مرحلوں میں منظم کیا گیا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ سلور میں منعقد کیا گیا تھا، جبکہ اس کا دوسرا مرحلہ جودھپور میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی بھی مشق اتنے بڑے پیمانے پر ہوتی ہے تو اس میں شریک ممالک ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ جب اتنی پیچیدگی اور اتنی بڑی شدت کی کوئی مشق ہوتی ہے تو مختلف کام کی ثقافتوں، مختلف فضائی جنگی تجربات اور جنگی اصولوں کے حامل فوجی ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ہم نہ صرف دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہیں، بلکہ ہماری مسلح افواج کو دنیا کی سب سے طاقتور مسلح افواج میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگ شکتی جیسی مشقوں کی اپنی اسٹریٹجک اہمیت ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر ممالک کے درمیان باہمی تعاون، ہم آہنگی اور اعتماد کو بڑھانے کے ایک ذریعہ کے طور پر، انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نہ صرف اپنی ضروریات کے لیے دفاعی ساز و سامان تیار کر رہا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ملک میں بہت سے غیر ملکی آلات کے پرزے بھی تیار کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ اور فرانس کے سفران ہیلی کاپٹر انجن ایک مشترکہ منصوبے کے تحت ہائی پاور انجن کے ڈیزائن اور ڈیولپمنٹ پر کام کر رہے ہیں۔ اس کا نام "سپھل” رکھا گیا ہے۔ یہ مشترکہ منصوبہ اپنی کوششوں میں بھی کامیاب ہو گا اور دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں دونوں ممالک کے لیے مہارت اور تجربے کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔













