ایس کے آئی سی سی ،سرینگر میں نوروزہ ”چنار کتاب میلہ“کامیابی کے ساتھ پہنچا اختتام پذیر۔17اگست سے شروع یہ کتاب میلہ آج یعنی 25 اگست کو ااختتام پزیر ہوا۔کتاب میلہ میں اب تک لاکھوں کی تعداد میں طلباءو طالبات ،ریسرچ اسکالرز ،اساتذہ اور عام قارئین نے حصہ لیا۔اس کتب میلہ میں بچوں کی تقریبات،ادبی نشستوںکے ساتھ ساتھ ثقافتی تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔اس نوروزہ کتاب میلہ میںکئی اسکوں کالجوں اور یونیورسٹی کے طلباءنے افسانہ نگاری،ڈرائینگ ،کیلی گرافی اور شاعری کے مقابلہ جاتی نشستوں میں حصہ لیا اور انہیں انعامات سے بھی نوازا گیا۔
اس نوروزہ کتاب میلہ میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی ،جس میں طلباءکے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور عام لوگوں نے شمولیت کی۔میلے میں ۰۰۲ سے زائدپبلشرز نے۲۵۱ کے قریب اسٹالز لگائے گئے تھے ۔ہندوستان کی مختلف زبانوں میں اس نوعیت کا کتاب میلہ سر زمین کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد کیا گیا ہے۔اسٹالز پر فکش(ناول،افسانے)،صوفیانہ کلام، شاعری(نظمیں، مرثیہ، قصیدے،اور مثنوی وغیرہ) کتابیںدستیاب تھیں۔میلے میں آئے کئی لوگوں سے بات چیت کی ،انٹرویوز لئے گئے ،بچوں اور الدین سے بھی بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اس طر ح کے کتابی میلوں سے ہمارے بچوں میں پڑھائی کا رحجان بڑھے گا۔اور سوشل میڈیا جو کہ بچوں کی پڑھائی میں سب سے برا روڑا ہے کتابیں اس سے دوری کا سب سے بہترین ذریعہ ہ

ے۔
کتاب میلہ کے آخری دن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی طرف سے ”سپاس و تشکر“ کا اہتمام کیا گیا جس میں مہمانِ خصوصی ،قائم مقام چیئر مین،نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز،مہمانِ ذی وقار جناب شاہد اقبال چودھری آئی اے ایس اور شری یوراج ملک ،وی ایم ایس۔تقریب میں ممنونیت و سپاس گزاری کی ذمہ داری قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے نبھائی اوراظہار تشکرکی رسم سی آئی ایل کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نصیب علی نے نبھائی۔
نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کے ڈائیریکٹرشری یوراج ملک نے کہا ککہ اردکو ایک ایسی زبان ہے جس میں ادب ادب ہی ادب ہے اور اگر کہا جائے کہ اس طرح کا ادب دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں ہے۔اردو نہ صرف زبان ہے بلکہ اس میں ایک تہذیب اور ثقافت موجود ہے۔یہ کتاب میلہ اشتراکیہ اداروں کا نہیں بلکہ کشمیر کی عوام کا میلہ ہے۔یہاں کے ادب میں بہت گہرائی ہے اور راج ترنگنی سے لے کر آج تک آج تک جو بھی کتابیں اور تاریخ لکھی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی زبان،اپنے پہناوے،اپنے اتہاس،اپنی وراثت کو بچانا ہے اور ہمیں فخر کرنا چاہئے۔یوراج ملک نے کہا کہ ہماری زندگی میں تین چیزوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ان علم،فن کاری،ہنر،اور ویلیوز شامل ہیں۔کتابیں ہمیں تاریخ بناتی ہیں ،کتابیں ہمیں آدمی سے انسان بناتی ہیں۔
ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری سیکریٹری ڈیپارٹمنٹ آف رورل ڈیولپمنٹ ،حکومت ہند،جموں و کشمیر نے کشمیر کے عوام ا ور طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ اس طرح کے کتاب میلے کا انعقاد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کو آگے لے جانے میں کتابوں سے جڑنا ہو گا۔کتابوں سے محبت کامیابی کی نشانی ہے ۔مینارٹی کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا کہ اس کتاب میلہ میں نے کہا کہ کشمیر نہ صرف جنت ہے بلکہ یہاں کہ لوگ بہت ذہین ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں اداروں کا میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس طرح کی شروعات کی اور کشمیر کے لوگوں کو مزید کتابوں کے ساتھ جڑنے کا موقع فراہم کیا۔انہوں نے کشمیری عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگ دنیا بھر کے ہر میدان میں اپنی تہذیب کی رہنمائی کر رہے ہیں۔انہوں نے کشمیر کے لوگوں کو یقین دلایا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ ہم خوشحالی کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔آپ سب اس میں ہمارا ساتھ دیں۔قومی کونسل کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے تمام مہمانان کا،پبلشرز کا اور کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور آخر میں ڈاکٹر نصیب علی نے بھی چنار کتب میلہ کی پہل کو سراہتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا۔
25 اگست کی شام میں کنیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے ایک مزاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں لیاقت جعفر سمیت کئی شعرا نے شرکت کی اور اپنے اپنے کلام سے کشمیر کے عوام کو محظوظ کیا۔کتاب میلہ کی آخری تقریب میں” کبیر کیفے “بینڈ نے عوام کا دل جیت لیا اور لوگوں نے جھوم جھوم کر ساتھ میں گایا بھی اور رقص بھی کیا۔اس طرح یہ نو روزہ ”چنار کتاب میلہ“اختتام پذیرہوا۔














