رائے پور/ مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون جناب امت شاہ نے آج رائے پور، چھتیس گڑھ میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی( کے زونل یونٹ آفس کا ورچوئل طور پر افتتاح کیا۔ جناب امت شاہ نے چھتیس گڑھ میں منشیات کے منظر نامے پر ایک جائزہ میٹنگ کی بھی صدارت کی۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ جناب وشنو دیو سائی، مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جناب نتیانند رائے، چھتیس گڑھ کے نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے شرما، مرکزی داخلہ سکریٹری، ڈائریکٹر، انٹیلی جنس بیورو، ڈائریکٹر جنرل، این سی بی، چھتیس گڑھ کے چیف سکریٹری سمیت کئی معززین اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اس موقع پر موجود تھے۔اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا 2047 تک منشیات سے پاک ہندوستان کا عزم آج ملک کے ہر شہری کا عزم بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات سے پاک ہندوستان کی قرارداد خوشحال، محفوظ اور شاندار ہندوستان کی تعمیر کے لیے اہم ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ منشیات صرف ہندوستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔جناب امت شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم ہندوستان میں منشیات کے خلاف جنگ کو شدت، سنجیدگی اور جامع حکمت عملی کے ساتھ لڑیں تو ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے اور ملک کی معیشت کو کمزور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات نہ صرف ملک کی نوجوان نسل کو تباہ کرتی ہیں بلکہ ملک کی قومی سلامتی کو بھی کمزور کرتی ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون نے کہا کہ سب کو مل کر منشیات کے خلاف صفر برداشت پالیسی پر آگے بڑھنا چاہیے اور منشیات سے پاک ہندوستان کے وزیر اعظم مودی کے عزم کو پورا کرنا چاہیے۔جناب امت شاہ نے کہا کہ آج این سی بی کے رائے پور زونل آفس کا افتتاح کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دفتر نہ صرف ریاست بلکہ پورے خطے میں منشیات پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک کی ہر ریاست میں این سی بی کی موجودگی درج کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت ریاستی حکومتوں کے تعاون سے ہر ریاست میں این سی بی کے دفاتر قائم کرکے منشیات کے کاروبار کو ختم کرے گی۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج منشیات کی اسمگلنگ کا رجحان بدل رہا ہے اور یہ قدرتی سے مصنوعی منشیات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں سکون آور ادویات کے استعمال کا فیصد 1.45 ہے جو کہ قومی اوسط سے زیادہ ہے اور گانجہ کا استعمال بھی 4.98 فیصد ہے جو کہ قومی اوسط سے زیادہ ہے۔جناب امت شاہ نے منشیات کی اسمگلنگ کے معاملات کی تحقیقات میں سائنسی طریقوں کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ’اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر‘ کے نقطہ نظر کے ساتھ کام کرنے اور پورے نیٹ ورک کو بے رحم طریقے سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ جب تک ہم پورے نیٹ ورک پر حملہ نہیں کرتے، ہم منشیات سے پاک ہندوستان کا مقصد حاصل نہیں کر پائیں گے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ منشیات کا استعمال کرنے والا شکار ہے جبکہ اس کا کاروبار کرنے والا مجرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم منشیات کی کھوج، نیٹ ورک کی تباہی، مجرم کی گرفتاری اور عادی کی بحالی کے چار اصولوں پر عمل کر کے ہی اس جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں منشیات کے خلاف جنگ میں مکمل حکومتی نقطہ نظر اپنانے سے ہی مکمل کامیابی ملے گی۔














