علاقے میں فوج ، فورسز اور پولیس کی بھاری جمعیت تعینات، محاصری بدستور جاری
سرینگر//سنیچر وار کو سوپور کے شمالی کشمیر کے واترگام علاقے میں علاقے میں مبینہ طور پر چھپے بیٹھے عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان تصام آرائی کے دوران ایک عسکریت پسند کی لاش بشمول ہتھیار دکھنے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق علاقے میں محاصرہ بدستور جاری ہے ۔ دریں اثناءپولیس نے اس بارے میں بتایا کہ موٹر سائکل پر سوار دو جنگجوﺅں نے وتر گام سوپور میں ناکہ کے دوران جونہی وہاں پر موجود اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تاہم مسلح موٹر سائکل سوارنے پارٹی پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس دوران ناکہ پر تعینات فورسز اہلکاروںنے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ایک جنگجو کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی ہے جس کی شناخت عادل احمد کے بطور کی گئی ہے ۔ قبل ازیں پولیس نے بتایا کہ سوپور کے وترگام علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار جنگجو کو ہلاک کیا جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں سنیچر وار کو سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم میں ایک جنگجو کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ معلومات کے مطابق سوپور پولیس اور 32 راشٹریہ رائفلز پولیس اور فورسز کی مشترکہ ٹیم نے رفیع آباد وتر گام میں ناکہ بٹھارکھا تھا جس دوران وہاں سے دو مبینہ جنگجو موٹر سائکل پر سوار آرہے تھے اور ناکہ کو دیکھ کر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں وہاں پر تعینات اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس میں ایک مسلح بائک سوار کی موت ہوگئی جس کے پاس ہتھیار بھی تھا ۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مارے گئے عسکریت پسند کی شناخت عادل احمد کے بطور ہوئی ہے ۔واضح رہے کہ قبل جمعہ کو سیکورٹی فورسز نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ فوج نے پی او کے کے ایک رہائشی اور لشکر طیبہ کے سہولت کار کو گرفتار کیا تھا، جس کی شناخت ظہیر حسین شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے اسے پونچھ میں پکڑا تھا۔ریاست میں سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ریاست میں ہونے والے انتخابات میں کوئی گڑبڑ نہ ہو، مرکزی حکومت نے بھاری سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا ہے۔ اب تک نیم فوجی دستوں کی تقریباً 300 کمپنیاں تعینات کی جا چکی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کمپنیوں کو سری نگر، ہندواڑہ، گاندربل، بڈگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اننت ناگ، شوپیاں، پلوامہ، اونتی پورہ اور کولگام میں تعینات کیا گیا ہے۔ نیم فوجی دستوں کی 298 کمپنیاں بشمول سینٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکورٹی فورس، سہسترا سیما بال اور انڈو تبت بارڈر پولیس کو وادی کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔انتخابات 18 ستمبر سے ہوں گے۔حکام کے مطابق سری نگر کو سب سے زیادہ کمپنیاں (55) موصول ہوئی ہیں، اس کے بعد اننت ناگ (50)، کولگام (31)، بڈگام، پلوامہ اور اونتی پورہ (ہر ایک میں 24)، شوپیاں (22)، کپواڑہ (20)، بارہمولہ (20) ہیں۔ 17)، ہندواڑہ (15)، بانڈی پورہ (13) اور گاندربل (3)۔ تین مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے کا نوٹیفکیشن منگل کو جاری کر دیا گیا۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 18 ستمبر، دوسرے مرحلے کی 25 ستمبر اور تیسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ یکم اکتوبر کو ہوگی۔ جبکہ انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 اکتوبر کو ہونی ہے۔













