میسور، (یو این آئی) بچوں اور نوجوانوں کو حکومتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے کی جانے والی آب و ہواکے سلسلے کی کارروائی کے مرکز میں ہونا چاہیے ۔ آب و ہوا کے سلسلے میں بامقصد کارروائی اور موسمیاتی پالیسی اور عمل میں قیادت کے بارے میں ان کی آوازوں اور آراءپر غور کیا جانا چاہیے ۔ گراس روٹ سطح پر نوجوانوں کے رہنما¶ں اور کمیونٹیز کے ساتھ ماحولیاتی حل کی منصوبہ بندی کرنے اور نافذ کرنے کے لیے اداروں کی صلاحیت پیدا کرنا پائیدار ترقی کے اہداف اور قومی سطح پر طے شدہ شراکت کو حاصل کرنے کی سمت میں ہندوستان کی پیشرفت کی حمایت کرے گا۔یہ 15-18 اگست 2024 کو میسور میں منعقدہ لوکل کانفرنس آف یوتھ (ایل سی او وائی) کے اختتام پر ہندوستان بھر کے بچوں اور نوجوانوں کے ذریعہ تیار کردہ اور شروع کیے گئے قومی نوجوانوں اور بچوں کے بیان کے اہم نکات میں سے ایک تھا۔ آج تقریب میں محترمہ ریٹا کھنہ، سائنسداں جی، لائف سیل، ماحولیات اور جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (آن لائن موجودگی) اور ڈاکٹر زیلم برہانو ٹافیس، یونیسیف کے فیلڈ آفس کے چیف، آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ موجود تھے ۔ایل سی او وائی یو این فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (یو این ایف سی سی سی) کے تحت سالانہ نوجوانوں کی زیرقیادت کانفرنسیں ہیں جو دنیا بھر کے نوجوانوں کے ذریعے منعقد کی جاتی ہیں جو مقامی آب و ہوا پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، موسمیاتی کارروائی میں نوجوانوں کی قیادت کو فروغ دیتی ہیں اور دنیا بھر میں گراس روٹ سطح پر موسمیاتی کارروائی کو بڑھاتی ہیں۔ انڈیا ایل سی او وائی کی طرف سے تیار کردہ نیشنل یوتھ اینڈ چلڈرن اسٹیٹمنٹ دو مہینوں میں ایک مشاورتی عمل تھا جس میں 1000 نوجوان اور 500 بچے شامل تھے ۔ اسے میسور میں گزشتہ چار دنوں میں تقریباً 250 نوجوان شرکاءکے ان پٹ کے ساتھ حتمی شکل دی گئی، جس میں قومی اور عالمی سوالات پر توجہ دی گئی۔













