گرمیوں کے ان ایام میں وادی بھر اور خاص طور پر شہر میں پانی کی شدید قلت سے لوگوں کو گوناگوں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔بہت سے علاقے ایسے میں جہاں نہ دن کو اور نہ ہی رات کو پانی فراہم ہو پاتا ہے ۔اس کی وجہ کیا ہے اس بارے میں محکمہ واٹر ورکس ہی جواب دے سکتاہے ۔گرمیوں کے اس موسم میں جب نل خشک ہونگے تو لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا اس کا متعلقہ حکام کو کوئی احساس نہیں ہے بلکہ وہ خاموش تماشائی بنے ہیں ۔مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے بہت سی جگہوںپر احتجاج بھی کیا ۔خواتین نے خالی مٹکے ،بالٹین اور دوسرے برتن سڑکوں پر رکھ کر محکمہ واٹر ورکس کے خلاف غصے کا اظہار کیا لیکن اس کے باوجود محکمہ واٹرورکس کی طرف سے کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے ۔درجنوں علاقوں میں ہاہا کار مچی ہوئی ہے ۔نل خشک پڑے ہیں ۔کوئی ایک علاقہ ہو تو اس کے بارے میں کہا جاسکتا تھا کہ اس مخصوص علاقے میں پانی نہیں لیکن شہر کے تقریباً سبھی علاقے پانی سے محروم ہیں ۔اگرچہ کئی ایک علاقوں کو رات کے دوران پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن بہت سے ایسے ایریاز ہیں جہاں نل مسلسل خشک پڑے ہیں ۔بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔اس دوران شہر کے ایک گنجان آبادی والے علاقے اندورن کاٹھی دروازہ ،محلہ اشرف خان ،ممہ خان ،ہاتھی خان ،سنٹرل جیل اور آس پاس کے دوسرے ایسے علاقے جن کو پوکھری بل واٹر پلانٹ سے پانی فراہم کیا جاتاہے ایک اور مصیبت میں گرفتار ہیں ۔ان کی صرف ایک ہی مصیبت نہیں بلکہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس پلانٹ سے بدبو دار ،غلیظ اور گندہ پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔یہ لوگ آج ہی نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ جب سے اس واٹر پلانٹ کو چالو کیا گیا تب سے کہا جارہا ہے کہ اس پلانٹ سے گندہ ،بدبو دار اور غلیظ پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔کئی برس قبل لوگوں کی شکایت پر اس کو بند کردیا گیا تھا بعد میں لوگوں کو اس بات کا اطمینان دلایا گیا کہ اب اس پلانٹ سے صاف پانی فراہم کیا جاے گا لیکن مقامی مسجد کیمیٹیوں کے علاوہ معززین علاقہ نے بتایا کہ اس پلانٹ سے جو پانی فراہم کیا جارہا ہے وہ ناقابل استعمال ہے ۔اب ان لوگوں کو گاڑیوں میں دور دور سے پانی لانا پڑتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ لوگ اب بوتل بند پانی خرید کر استعمال کرتے ہیں ۔جو ان کے لئے مہنگا ثابت ہورہا ہے ۔متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے لیفٹننٹ گورنر سے اس بارے میں فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے تاکہ اس واٹر پلانٹ سے صاف اور قابل استعمال فراہم کیا جاسکے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمے کی طرف سے بار بار کہا جارہا ہے کہ ہر گھر میں نل اور جل ہوگا لیکن یہاں نل تو ہیں لیکن جل نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔اسلئے ایل جی کو از خود اس بات کا جائیزہ لینا چاہئے کہ لوگ کیوں پانی کی عدم فراہمی کا رونا رو رہے ہیں ۔لیفٹننٹ گورنر کو اس بارے میں واٹر ورکس محکمے کے حکام سے جواب طلبی کرنی چاہئے کیونکہ لوگ اتنے آسودہ حال نہیں کہ بوتل بند پانی خرید کر پی سکتے ہیں ۔لوگوں نے کہا کہ ان کو لیفٹننٹ گورنر سے کافی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ اس حساس ترین انسانی مسلئے کا حل ضرور نکالینگے ۔














