Daily Aftab
18 اگست ,2026
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار
  • Edition
    • اردو
    • English
Daily Aftab
ADVERTISEMENT

ایک آم کا نام چونسا کیونکر پڑا اور اورنگزیب نے دو آموں کے کیا نام رکھے؟

by Online Desk
08 جولائی 2024
A A
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp
ADVERTISEMENT

یوسف تہامی، دہلی

گرمیوں کا موسم برصغیر میں آم کا سیزن ہے اور ہندوستان میں تو دنیا کا نصف سے زیادہ آم پیدا ہوتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اردو شاعری میں کسی پھل کی سب سے زیادہ تعریف و توصیف ہوئی ہے تو وہ آم ہے۔ اس کا اظہار انڈیا کے ایک مزاحیہ شاعر ساغر خیامی نے ان الفاظ میں کیا ہے:
پھل کوئی زمانے میں نہیں آم سے بہتر
کرتا ہے ثنا آم کی غالب سا سخنور
اقبال کا ایک شعر قصیدے کے برابر
چھلکوں پہ بھنک لیتے ہیں ساغر سے پھٹیچر
وہ لوگ جو آموں کا مزا پائے ہوئے ہیں
بورانے سے پہلے ہی وہ بورائے ہوئے ہیں

ADVERTISEMENT

یہاں ہم بات آموں کے متعلق شاعری پر نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہاں پھلوں کے راجہ کے متعلق بادشاہوں کے قصے بیان کرنا مقصود ہے۔
تو سب سے پہلے چوسا آم کے نام کا ذکر کرتے ہیں۔ چوسا آم انڈیا میں بہار اور مشرقی اترپردیش کا مخصوص آم ہوا کرتا تھا، لیکن اب پاکستان کے شہر رحیم یار خان اور ملتان میں بھی بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔
مشرقی اترپردیش سے اس کے خاص تعلق کی بنیاد پر اسے پہلے غازی پوریا کہتے تھے، جیسے کہ آج کل آم کی ایک خاص قسم بمبیا اور ایک دوسری کلکتیا کہلاتی ہے۔ بمبیا آم موسم کے شروع میں آتا ہے جبکہ کلکتیا زیادہ بڑا اور گودے دار ہوتا ہے، وہ دیر سے برسات میں آتا ہے۔ اس کا ذائقہ کوئی خاص تو نہیں لیکن میٹھا اور پیٹ بھرنے والا ہوتا ہے، شاید یہ مرزا غالب کو زیادہ پسند آتا جو آموں کے بارے میں کہتے ہیں کہ زیادہ ہوں اور میٹھے ہوں۔
تو زرد رنگ کے جون میں آنے والے اس غازی پوریا آم کا نام افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے چوسا رکھا۔ دراصل جب انہوں نے سنہ 1539 کی جنگ میں ہمایوں کو بہار کے علاقے چوسا میں شکست دی تو انہوں نے جیت کا جشن اپنے پسندیدہ آم سے منایا اور اس آم کا نام ’چوسا‘ رکھا جسے اب ’چونسا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے جیت کے تحفے کے طور پر یہ آم دوسرے سرداروں کو بھی بھیجے۔

چوسا کی جنگ نے جہاں شیر شاہ سوری کی بادشاہت کو مستحکم کیا وہیں چوسا کی اہمیت بھی بڑھ گئی۔
اورنگزیب کو آم کے لیے ڈانٹ پھٹکار
جب مغل بادشاہ شاہ جہان دکن میں برہان پور میں گورنر تھے تو انہوں نے دو آم کے باغات لگائے تھے جن میں سے دو آم کے درخت انہیں بہت پسند تھے۔
جب وہ بادشاہ بنے تو دکن کی ذمہ داری ان کے بیٹے اورنگزیب کے حصے میں آئی۔ اورنگزیب کو سخت ہدایت تھی کہ اس آم کی خاص طور پر نگرانی کی جائے اور اس کا پھل انہیں وہ جہاں کہیں بھی ہوں آگرے یا دہلی بھیجا جائے۔
چنانچہ بادشاہ کی ہدایت پر اس کی نگرانی کے لیے آم کے سیزن میں خاص طور پر محافظ تعینات کیے جاتے تھے اور دوسرے دنوں میں ان درختوں کا خاص خیال رکھا جاتا تھا تاکہ اچھے پھل آئیں۔
ایک بار جب انہیں ان درختوں کا پھل بھیجا گیا تو وہ مقدار اور تعداد میں کم تھا اور قدرے خراب بھی ہو گیا تھا تو شاہجہاں نے اپنے بیٹے کی سرزنش کی۔
آداب عالمگیری کے مطابق اورنگزیب نے جواب میں جو خط تحریر کیا اس میں انہوں لکھا کہ ’موسم کی خرابی، آندھی اور اولے کی وجہ سے پھل خراب آئے اس میں ان کی کوئی تقصیر نہیں ہے۔‘

ویسے شاہجہاں کے زمانے میں آم کے بڑے بڑے باغات بہار اور بنگال میں لگائے گئے اور بہت ساری قسمیں بھی تیار ہوئیں۔ ویسے آج ہندوستان میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اقسام موجود ہیں، اور اب تو ایک ایک درخت کی مختلف شاخوں میں مختلف اقسام کے پھل لگائے جاتے ہیں اور ان کی نمائش بھی ہوتی ہے۔
اورنگزیب نے سنسکرت میں نام رکھے
شاہجہاں کی طرح اورنگزیب کو بھی آم بہت پسند تھے اور انہیں تحفے میں آم بھیجے جاتے تھے۔ ایک بار ان کے بیٹے نے اورنگزیب کو دو نئی اقسام کے آم بھیجے اور ان سے ان کا نام رکھنے استدعا کی۔
اگرچہ انڈیا میں اورنگزیب کو ہندوؤں سے نفرت کرنے والوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن ایسا نہیں تھا کیونکہ ان کے دربار میں سب سے زیادہ ہندو جاگیردار ہی تھے۔
بہرحال انہون نے بیٹے کی درخواست پر ان دونوں آموں کے نام سنسکرت زبان میں رکھے۔
ایک آم کا نام سُدھا رس رکھا تو دوسرے کا رسنا وِلاس رکھا۔
سنسکرت لفظ ’سُدھا‘ کا مطلب امرت ہے اور دوسرا لفظ رس یعنی جوس ہے۔ اس طرح یہ آم امرت کا جوس ٹھہرا۔ امرت کو اردو میں آپ آب حیات کے طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

جب مغل بادشاہ شاہ جہان دکن میں برہان پور میں گورنر تھے تو انہوں نے دو آم کے باغات لگائے تھے۔ (فائل فوٹو: دی فری پریس جرنل)

سنسکرت لفظ ’رسنا‘ کا مطلب ہندی میں زبان ہوتا ہے جس سے آپ کو ذائقے کی پہچان ہوتی ہے جبکہ ولاس کا مطلب فرحت خوشی یا مزا ہے۔ یعنی اس طرح دوسرے آم کے نام کا مطلب زبان کا مزا ٹھہرا۔
واضح رہے کہ اورنگ زیب سنسکرت زبان بہت اچھی طرح جانتے تھے اور بعض اوقات ان کے چنندہ الفاظ کا استعمال بھی کرتے تھے۔
اب پھر سے ساغر خیامی کی نظم کی جانب آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
کیا بات ہے آموں کی، ہوں دیسی ہو کہ بدیسی
سُرخی ہو، سرولی ہو کہ تخمی ہو کہ قلمی
چوسے ہوں، سفیدے ہوں کہ خجری ہوں کہ فجری
اک طرفہ قیامت ہے مگر آم دسہری
فردوس میں گندم کے عوض آم جو کھاتے
آدم کبھی جنت سے نکالے نہیں جاتے

Like this:

Like Loading…

یہ بھی پڑھیے

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

اسی بارے میں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ
تازہ ترین خبریں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

11 دسمبر 2025
 نتن گڈکری نے ناگالینڈ میں قومی شاہراہ کے 29 پروجیکٹوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا
تازہ ترین خبریں

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

11 دسمبر 2025
 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا
تازہ ترین خبریں

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

11 دسمبر 2025
افریقہ، الیکٹرک  وہیکل  جیسے شعبوں کے لیے  اہم معدنیات کی ہندوستان کی ضرورت کو پورا کر سکتا  ہے۔ یوش گوئل
تازہ ترین خبریں

 نیسٹ02-بلڈنگ اور  کسٹم سہولت مرکز بھارت کی ایکسپورٹ ترقی کو فروغ دیں گے۔ پیوش گوئل

11 دسمبر 2025
 لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای کے لیے 50 ایم بی بی ایس سیٹوں کی منظوری کے لیے  وزیراعظم مودی  اور  وزحر صح جے پی نڈا کا شکریہ ادا کیا
تازہ ترین خبریں

 لیفٹیننٹ گورنرسنہا نے جموں میں دہشت گردی کے متاثرین کے رشتہ داروںکو تقرری خط سونپے

11 دسمبر 2025
حد بندی کمیشن کی رپورٹ بی جے پی کیلئے فائدہ ، زیر حراست صحافیوں کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے / محبوبہ مفتی
تازہ ترین خبریں

جموں میں صحافی کا گھر منہدم، پی ڈی پی صدر نے این سی حکومت کو نشانہ بنایا

28 نومبر 2025
ہندوپاک جنگ بندی :وزیر اعلیٰ نے خیر مقدم کیا
تازہ ترین خبریں

بلڈوزر کارروائیاں عوامی حکومت کو کمزور کرنے کی سازش: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

28 نومبر 2025
روس یوکرین امن مذاکرات میں بھارت، چین، برازیل ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پوتن
تازہ ترین خبریں

پوتن کا دورہ بھارت: روس کی جنگی کوششوں اور عالمی سفارتکاری میں تبدیلیوں میں بھارت کی شراکت

28 نومبر 2025
گزشتہ 8 سالوں میں کی گئی ساختی اصلاحات سے بھارت کو دنیا کی تین اعلیٰ معیشتوں میں شامل ہونے میں مدد ملے گی۔ پیوش گوئل
تازہ ترین خبریں

ہندوستان مضبوط آر اینڈ ڈی فریم ورک پر توجہ مرکوز کرے گا

28 نومبر 2025
Next Post
ڈی سی سرینگر نے ڈی ایل آئی سی میٹنگ کی صدارت کی

ڈی سی سرینگر نے ڈی ایل آئی سی میٹنگ کی صدارت کی

اہم خبریں

 بھارت کی  خلائی معیشت اگلے 10 سالوں میں  45 بلین  ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔ جتیندر سنگھ

 ایتھنول  ملاوٹ والے ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔  گڈکری

 بھارت اور برازیل نے دفاعی صنعت میں تعاون اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ایک آم کا نام چونسا کیونکر پڑا اور اورنگزیب نے دو آموں کے کیا نام رکھے؟
تازہ ترین خبریں

ایک آم کا نام چونسا کیونکر پڑا اور اورنگزیب نے دو آموں کے کیا نام رکھے؟

08 جولائی 2024
مرحوم ثناءاللہ بٹ صحافت کے اُفق پر ایک چمکتا ہوا تارہ
ادارتی

مرحوم ثناءاللہ بٹ صحافت کے اُفق پر ایک چمکتا ہوا تارہ

25 نومبر 2021
کیسے 19ویں صدی کی سکھ سلطنت ایک طاقتور طاقت کے طور پر ابھری جس نے ہندوستان کی تاریخ کو تشکیل دیا
ثقافت

کیسے 19ویں صدی کی سکھ سلطنت ایک طاقتور طاقت کے طور پر ابھری جس نے ہندوستان کی تاریخ کو تشکیل دیا

27 اپریل 2023
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ  SCO وزرائے دفاع کی میٹنگ کی صدارت کریں گے
تازہ ترین خبریں

پی ایم مودی نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ راجناتھ سنگھ

22 جنوری 2024
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • اشتہار دینا
  • ہم سے رابطہ کریں

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

No Result
View All Result
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

ہم کوکیز کو مواد اور اشتہارات کو ذاتی بنانے ، سوشل میڈیا کی خصوصیات فراہم کرنے اور اپنے ٹریفک کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Discover more from Daily Aftab

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

%d