جموں کشمیر زرعی سیکٹر میں آگے بڑھ رہاہے
یوگا ڈے کے موقعے پر لوگوں کا پیار ملا اور بہنوں اور ماتاﺅں نے دعا کی
سرینگر/وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جموں کشمیر بہت آگے چل رہا ہے اور یہاں پر زرعی سیکٹر کو فروغ مل رہا ہے اس کی مثال پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پلوامہ میں اُگائے جانے والا مٹر لندن پہنچ گیا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ یہ ملک میں مقامی سطح پر کسانوں کی محنت اور امرت کال کے وژن کو بڑھانے کی طرف ایک قدم ہے ۔ من کی بات پروگرام میں پی ایم مودی نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے سرینگر میں ”یوگا “ ڈے کے سلسلے میں یوگا تقریب میں شرکت کی جس میں وہاں پر موجود بہنوں اور ماتاﺅں نے ہمیں دعائیں دیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام منعقد کیا ۔ اس موقعے پر پی ایم مودی نے کہا کہ جموں و کشمیر نے پچھلے مہینے جو کچھ حاصل کیا وہ پورے ملک کے لوگوں کے لیے ایک مثال ہے۔ یہاں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کیوں نہ کشمیر میں اگائی جانے والی غیر ملکی سبزیوں کو دنیا کے نقشے پر لایا جائے۔جموں و کشمیر کے لوگ بھی مقامی مصنوعات کو عالمی بنانے میں پیچھے نہیں ہیں۔ برف کے مٹروں کی پہلی کھیپ جموں و کشمیر کے پلوامہ ضلع سے لندن بھیجی گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بات من کی بات پروگرام میں کہی۔پی ایم مودی نے کہا کہ جموں و کشمیر نے پچھلے مہینے جو کچھ حاصل کیا وہ پورے ملک کے لوگوں کے لیے ایک مثال ہے۔ یہاں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ کیوں نہ کشمیر میں اگائی جانے والی غیر ملکی سبزیوں کو دنیا کے نقشے پر لایا جائے۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ کے چکورا گاو ¿ں کے عبدالرشید میر سب سے پہلے اس کے لیے آگے آئے۔ اس نے گاو ¿ں کے دوسرے کسانوں کی زمینیں اکٹھا کر کے برف کے مٹر اگانے شروع کر دیے اور جلد ہی کشمیر سے برف کے مٹر لندن پہنچنے لگے۔ اس نے گاو ¿ں کے دوسرے کسانوں کی زمینیں ملا کر برف کے مٹر اگانے کا کام شروع کیا اور جلد ہی کشمیر سے برف کے مٹر لندن پہنچنے لگے۔پی ایم مودی نے کہا کہ بہت ساری ہندوستانی مصنوعات ہیں جن کی پوری دنیا میں بہت مانگ ہے اور جب ہم کسی مقامی ہندوستانی پروڈکٹ کو عالمی سطح پر جاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو فخر سے بھر جانا فطری بات ہے۔ ایسی ہی ایک پروڈکٹ اراکو کافی ہے۔ یہ آندھرا پردیش کے الوری سیتا راما راجو ضلع میں بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ اپنے بھرپور ذائقے اور خوشبو کے لیے جانا جاتا ہے۔پی ایم مودی نے امرناتھ یاترا کے لیے آنے والے بھگوان بھولے کے عقیدت مندوں کو مبارکباد دی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ امرناتھ یاترا بھی شروع ہو چکی ہے اور اگلے چند دنوں میں پنڈھارپور واری بھی شروع ہونے والی ہے۔ میں ان یاترا میں شریک تمام عقیدت مندوں کو اپنی نیک تمناو ¿ں کا اظہار کرتا ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس مہینے پوری دنیا نے 10 واں یوگا ڈے بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا ہے۔ میں نے سری نگر، جموں و کشمیر میں منعقد یوگا پروگرام میں بھی شرکت کی۔ کشمیر میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بہنوں اور بیٹیوں نے بھی یوگا ڈے میں جوش و خروش سے حصہ لیا۔ جیسے جیسے یوگا ڈے کی تقریبات آگے بڑھ رہی ہیں، نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔من کی بات 3 اکتوبر 2014 کو شروع ہوئی۔ اس کا مقصد ملک کے تمام طبقات سے رابطہ قائم کرنا ہے۔ 22 ہندوستانی زبانوں اور 29 بولیوں کے علاوہ ‘من کی بات’ 11 غیر ملکی زبانوں میں بھی نشر ہوتی ہے۔ ان میں فرانسیسی، چینی، انڈونیشی، تبتی، برمی، بلوچی، عربی، پشتو، فارسی، دری اور سواحلی شامل ہیں۔ من کی بات آل انڈیا ریڈیو کے 500 سے زیادہ نشریاتی اسٹیشنوں سے نشر کی جاتی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کم از کم ایک بار 100 کروڑ سے زیادہ لوگ ‘من کی بات’ میں شامل ہو چکے ہیں۔












