مواصلاتی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ٹور منسوخ کرنے پرہوتے ہیں مجبور
سرینگر//آڑوپہلگام میں گزشتہ برس 50ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے سیر کی تاہم اس خوبصورت ترین جگہ میں مواصلاتی نظام کی کوئی سہولیت دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحت سے جڑ ے افراد اور خاص کر سیاحوں کو بھی شدید پریشانیوں کا سامناکرناپڑرہا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق پہلگام سے محض 11کلو میٹر کی دوری پر آڑو طلسماتی خوبصورتی کا شاہلکار ہے تاہم اس جگہ میں دور جدید کی کوئی سہولیت لوگوںکو دستیاب نہیں ہے ۔ آڑو میں کوئی بھی موبائل ٹاور نہیں ہے اور ناہی کوئی بھی فون اس جگہ پر کام کرتا ہے ۔ بی ایس این ایل ، ائر ٹیل ، جیو اور دیگر مواصلاتی کمپنیوں کے سم کارڈ اس جگہ پہنچتے ہی بے کار ہوجاتے ہیں ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق آڑو میں گزشتہ برس پچاس ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے سیر کی جن میں زیادہ تر اسرائیل اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے تھے ۔ انہوںنے کہاکہ غیر ملکی سیاح آڑو میں ہفتے ہفتے رہتے ہیں اور ٹریکننگ کرتے ہیں لیکن جب ان کے موبائل میں کوئی سگنل نہیں ملتی اور وہ پوری دنیا سے مواصلاتی نظام سے کٹ کر رہ جاتے ہیں تو وہ اپنا ٹور مختصر کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ آڑو میں نہ صرف سیاحوں کو موبائل ٹاور نہ ہونے کیو جہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سیاحت سے جڑے افراد کو بھی شدید دشواریاں پیش آرہی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ ہوٹل اور گیسٹ ہاوس میں سیاح بکنگ نہیں کرسکتے کیوںکہ یہاں نہ موبائل چلتے ہیں اور ناہی انٹرنیٹ موبائل پر دستیاب رہتا ہے ۔ اس ضمن میں مقامی لوگوںنے متعلقہ حکام خاص کر سیکریٹری ٹورازم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدگی دکھاکر آڑو کےلئے موبائل ٹاور نصب کرائیں تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں اور دیگر لوگوںکا بیرونی علاقوں سے رابطہ برابر بنا رہے ۔













