مرکزی سرکار کے اس فیصلے کا عوامی حلقوں میں بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا جارہا ہے جس کے تحت بے گھر لوگوں کو اپنے گھر تعمیر کرنے کیلئے سرکار کی طرف سے قرضہ فراہم کیا جاے گا ۔سرکاری ذرایع کے مطابق قرضے کی صورت میں لی جانے والی رقم پر سود بہت ہی کم ہوگا اور اپنا گھر تعمیر کرنے والوں کو قرضے کی صورت میں دی جانے والی رقم بیس برسوں تک ادا کرنی ہوگی ۔اس بات کا اعلان مرکزی وزیر ہر دیپ سنگھ پوری نے کل یہاں کیا ۔انہوں نے کہا کہ سال 2028تک ملک کے پچیس لاکھ کنبے جن کے پاس اپنے گھر نہیں ہیں اس سکیم کے تحت اپنے گھر تعمیر کرکے ان میں رہایش اختیار کرسکتے ہیں ۔عام لوگوں نے مرکزی سرکار کی اس سکیم کو غریب پروری سے تعبیر کرتے ہوے کہا کہ واقعی اس سے بے گھر کنبوں کو راحت مل سکتی ہے لیکن جموں کشمیر میں بھی اس سکیم کا اطلاق کیا جانا چاہئے تاکہ بے گھر افراد کو بسانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔گذشتہ دنوں پارم پورہ کے قریب آگ کی بھیانک واردات رونما ہوئی جن میں تقریباً تیس ایسے کنبے بے گھر ہوگئے جو عارضی جھونپڑیوں میں جہلم کے کنارے پر بود و باش اختیار کئے ہوئے تھے ۔آگ نے غریب اور بے سہارا کنبوں سے ان کی چھت چھین لی جس کے نتیجے میں یہ لوگ کھلے آسمان کے نیچے آگئے ۔ان جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگ جن میں بچے بوڑھے مرد عورتیں وغیرہ شامل ہیں آج کل کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ جو بے گھر ہوگئے دکانوں کے ٹھروں پر عارضی شیڈوں کے نیچے ،چناروں کے تنوں کے پاس وغیرہ رہ رہے ہیں یہ لوگ راتوں کی سردیاں برداشت کررہے ہیں ۔ان لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں ۔اسلئے حکومت کو چاہئے کہ ان بے گھر ہوئے لوگوں کی با ز آباد کاری کا فوری طور بندوبست کیا جاے تاکہ سرمائی سردیاں آنے سے پہلے ہی ان کے سروں کو چھپانے کے لئے چھت میسر ہوسکے ۔ایسے ہی لوگوں کو اس مرکزی سکیم کے دائیرے میں لانے کی ضرورت ہے جس کا اعلان ہر دیب سنگھ پوری نے گاندھی جینتی کے موقعے پر نئی دہلی میں کیا ۔اس سکیم کے تحت ملک بھر کے پچیس لاکھ لوگوں کو لایا جارہا ہے اسلئے یوٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ یہاں سروے کرنے کے بعد دیکھے کہ کون لوگ مرکزی سکیم کے دائیرے میں لانے کے مستحق ہیں اور فی الحال مستحق لوگ وہی نظر آرہے ہیں جن کے سروں پر چھت نہیں اور جو کھلے آسمان کے نیچے آنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔وزیر اعظم نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہیں گذشتہ نو برسوں کے دوران بہت سی ایسی سکیموں کو اعلان کیا جو غریبوں ،مسکینوں اور سماج کے پچھڑے طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے ہیں۔ان سکیموں سے واقعی عام لوگوں کو فایدہ ملا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ جو نئی سکیم بنائی گئی ہے اس کا دائیرہ جموں کشمیر تک بڑھایا جاے اور اس سے مستحق لوگوں کو فایدہ اٹھانے کا موقعہ فراہم کیا جاے ۔کیونکہ لاکھوں کنبے ایسے ہیں جن کے سروں پر چھت نہیں وہی سب سے زیادہ مستحق ہیں اور ایسے لوگوں کی فہرست بنا کر ان کو اپنے گھر تعمیر کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔قرضہ لینے والوں کے لئے دستاویزات بنانے کے عمل کو سہل اور آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔













